ارشد شریف اور الزامات کی مہم کی قوالی .. ڈاکٹر ظفر اقبال

#
ملک سوگوار ہے اور سب افسردہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشد شریف کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ یہ فانی دنیا سے ابدی دنیا میں چلے گئے۔ ان کی موت کے بارے میں حقائق سامنے آتے آتے جو مہم نہایت سرعت سے جاری ہے۔ اس میں اس پہلو سے مکمل احتیاط برتی جارہی ہے کہ کہیں کوئی مصدقہ بات کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ افواہ کی بجائے کوئی اطلاع نہ وصول کی جائے۔ شور و غوغا کی بجائے کسی آواز پر کان نہ دھرا جائے۔ پاک سر زمین کے نظام حاضر و غائب، مسنگ و مس یو کی روایت۔ آڈیو اور وڈیو وغیرہ کی طاقت کو کون نہیں جانتا لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ ہمیں افوا سازی اور غلو سے بچائے ۔
افواہ سازی کی صنعت ملک میں جدید نہیں لیکن اس میں ڈیجیٹل انقلاب اور اسپیڈ کی لائٹ سے بھی تیزی ایک نیا رجحان ہے۔
ممکن ہے کل اتنی ہی شد و مد سے فواد چوہدری اور خٹک صاحبان معتوب علیہم اداروں کی تعریف میں رطب اللسان ہوں اور توشہ خانے سے نصف مالیت پر سامان اٹھا کر بازار میں بیچنے والے خلیفہ المسلمین بھی کسی نئے باجوہ کو سی وی بھیجتے ہوئے ان الزامات سے دستبرداری ناک رگڑتے ہوئے کرتے رہیں اور ایجنسیوں کی پاکیزگی کی تسبیح پڑھتے پڑھتے بابا فرید کی قبر پر لوٹیاں لگاتے رہیں۔ پھر مہم جوؤں کو شاید کچھ شرمندگی ہو ۔۔
یہ تو ناگہانی وفات ہوئی اور ارشد شریف بھری جوانی میں افسردہ خاندان کو چھوڑ کر ابدی سفر کو روانہ ہوئے۔
لیکن ہمیں یاد ہے۔۔۔
شاہنواز بھٹو فرانس میں کثرت آب نوشی کے نتیجے میں اس دارفانی سے کوچ کر گئے تو اس وقت پیپلز پارٹی کی وقتی طور پر اصطبل اشمنٹ سے دوری تھی۔
ظاہر ہے الزام انہیں پر لگا تآنکہ کثرت مے کشی اور حسرت اقتدار کی آمیزش کا منظر واضح ہوا اس وقت تک انقلابی اور اضطرابی و سیمابی رو میں بہنے والے قسمیں کھا کھا کر اس "قتل” کو ضیاء کی ظلمت تسلیم کروا چکے تھے۔
پھر 88 میں ظلمت اور ضیاء یکجا ہوئے صر صر صبا سے بغل گیر ہوئی اور بندے خدا بن بیٹھے اور تاحال شیر و شکر ہیں۔ اور ایسے کہ شیر اور شکر میں تمیز مشکل۔ لڑائی اور پیار کے گھمسان میں فرق مشکل۔ دبئی لاڑکانے اور اسلام آباد/پنڈی کی مثلث میں سب آبے کھابے گم ۔۔سم ۔۔۔
لوگ حال ڈال ڈال کر مرتے رہے اور مسٹر بے نظیر ٹین پرسنٹ سے سینٹ پرسینٹ بن گئے۔ سندھ اجڑتا رہا اور فخر ایشیاء کا مزار بھولے بیوقوف بننے والے عوام کا منہہ چڑاتا رہا۔
ادھر نواز فیکٹریوں میں انہی "ذرائع” کے بقول بھارتی ایجنٹ کام کرتے رہے اور ہنہناتی تردیدیں بذریعہ پنڈیانہ این آر او بھی ملتی رہیں۔ پلیٹلیٹس بڑھتے اور فلیٹ ملتے اور گم ہوتے گئے۔ جیلوں اور اقتدار کی راہ داریوں میں زیر زمین اور بالائے آسمان رستے ایف ڈبلیو او بناتی رہی۔ نیشنل لاجسٹک کے سیل بنتے اور اصولوں کے بخیے ادھڑتے رہے۔ الزام اور تردید کے درمیان لوگ کامے لگانا اور سانس لینا بھی بھولتے رہے۔ ملک دشمنی اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ ایک ہی پنے کے دونوں طرف چھپتے رہے۔ باشعور عوام کے بچے کھچے دماغ کا/کی دہی نہیں لسی بن گئی۔
۔۔۔۔
سو
کسی نئے بچھڑے میں سے آواز کی تلاش میں سرگرداں قافلہ "سخت” جاں ۔۔۔
کب کسی منزل مراد کی جانب بڑھتا ہے۔
صدیاں یونہی ضائع نہیں ہوتیں۔ انہیں مختار مسعود جیسوں کے بیان کردہ مردود و نا مقبول فارمولے اپنانے پڑتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں چشم بینا عطا فرمائے

یہ بھی دیکھیں

تصویر کی اذیت۔۔ ڈاکٹر ظفر اقبال 

 کہتے ہیں دیت کے بعد کیس ختم ہوا۔ انسانی جان کے خاتمے کے اس کیس کے ساتھ رجحان سازی کا گہرا تعلق بن چکا۔ اس حوالہ سے ریاست کی کوئی ذمہ داری نہیں؟