وزیراعظم عمران خان کی ’بمبار‘ لیدر جیکٹ کے چرچے

اب تک عمران خان کے ساتھ وابستہ ہونے پر کئی انسانوں کو ملکی یا بین الاقوامی شہرت ملی ہے تاہم وزیراعظم بننے کے بعد ان کی لیدر جیکٹ مشہور ہو رہی ہے۔

اسلام آباد میں سردیوں کے آغاز کے بعد عمران خان یہ لیدر جیکٹ اکثر پہنے دیکھے جاتے ہیں۔ سرکاری اجلاسوں اور اہم ملاقاتوں میں بھی وہ چمڑے کی اس جیکٹ میں دکھائی دیتے ہیں۔

یہ سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے لیکن اب لوگ اس پر اظہار خیال کرنا شروع ہوگئے ہیں۔ جمعہ کو درجنوں افراد نے ٹوئٹر پر سرکاری ٹوئٹر ہینڈلز کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عمران خان مناسب لباس پہنیں اور شلوار قمیص پر جیکٹ پہننے کے بجائے باضابطہ ڈریس کوٹ اپنائیں، یعنی یا تو شلوار قمیص پر اچکن یا واسکٹ پہنیں یا پھر انگریزی سوٹ زیب تن کریں۔

وزیراعظم عمران خان جمعہ کی صبح چیف جسٹس کی تقریب حلف برداری میں لیدر جیکٹ کے بجائے بلیزر پہن کر شریک ہوئے

اتفاق کی بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو ہی اپنے لباس میں معمولی تبدیلی کی اور چمڑے کی جیکٹ کے بجائے شلوار قمیص پر بلیزر پہنا۔ وہ اس لباس میں نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی تقریب حلف برداری میں شریک ہوئے۔ شام کو اسی لباس میں انہوں نے زلمے خلیل زاد کی قیادت میں آنے والے امریکی وفد سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

وزیراعظم کے نئے بلیزر پر پر ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ یہ لباس اچھا ہے، اب عمران خان لیدر جیکٹ کو آگ نہ لگائیں بلکہ اسے دے دیں، ’کسی غریب کی سردیاں اچھی گزر جائیں گی۔‘

ایسا نہیں ہے کہ وزیراعظم نے اس سے پہلے لیدر جیکٹ کے علاوہ کوئی دوسرا اوپری لباس نہیں پہنا۔ موسم سرد ہونے سے پہلے وہ واسکٹ میں بھی نظر آئے جبکہ کئی دفعہ وہ بلیزر میں سامنے آچکے ہیں۔ البتہ سردی بڑھنے کے بعد وہ زیادہ تر لیدر جیکٹ میں ہی دکھائی دیئے ہیں۔ ان کی لیدر جیکٹ پر چھڑی بحث عمران خان اور دیگر سیاسی رہنمائوں کے بارے میں دلچسپ معلومات پر مبنی ثابت ہوئی۔

جمعہ کی صبح جب ایک کاروباری شخصیت ہارون رشید نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’آپ خواہ مجھے فرسودہ خیال والا کہیں یا پرانے فیشن کا دلدارہ  وزیراعظم کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ سرکاری مہمانوں کا استقبال چمڑے کی جیکٹ میں کریں۔ اگر دنیا بھر میں رائج سوٹ ٹائی چھوڑ دی ہے تو ہمارے مقامی لباس میں اوپر اچکن پہننا ہوتی ہے نہ کہ مغرب کا کوئی غیر رسمی پہناوا۔‘‘

ہارون رشید کی وہ ٹوئیٹ جو اس ساری بحث کا نکتہ آغاز ثابت ہوئی

ان کے اس اظہار خیال پر عمران خان کے کچھ پرستاروں نے کہاکہ کئی عالمی رہنما غیررسمی لباس میں سرکاری مہمانوں سے ملتے ہیں۔ اس پر کچھ دیگر لوگوں کا جواب تھا کہ غیر رسمی لباس میں ایسی ملاقاتیں وزیراعظم ہائوس یا ایوان صدر جیسے مقامات پر نہیں ہوتیں بلکہ غیر رسمی مقامات پر ہی ہوتی ہیں۔

اس دوران لاہور کے ایچی سن کالج کا ذکر بھی آگیا جہاں عمران خان نے تعلیم حاصل کی اور جہاں کپڑوں جوتوں کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔

ہارون رشید نے دعویٰ کیا کہ عمران خان جب لندن کے کلب انابیلز Annabel’s میں جاتے ہیں تو سوٹ اور ٹائی پہنتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر انہیں اندر داخل ہی نہیں ہونے دیا جائے گا۔

عمران خان جس طرز کی جیکٹ پہنتے ہیں اسے انگریزی میں leather bomber jacket کہتے ہیں۔ تاہم اس کا خودکش حملہ آوروں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہارون رشید نے جیکٹ کے لیے یہی اصطلاح استعمال کی جس پر کئی لوگ اس کے لفظی معنی ’بمبار کی چمڑے کی جیکٹ‘ کو سامنے رکھ کر ہارون رشید پر تنقید میں مصروف ہوگئے۔

حقیقت میں اس جیکٹ کو bomber jacket کہنے کا تعلق اس کی تاریخ سے ہے۔ یہ جیکٹ امریکی فضائیہ کے اہلکاروں کی وجہ سے رائج ہوئی تھی اسی سبب اس کا نام بمبار جیکٹ پڑ گیا۔

عمران خان کے متعدد حامیوں کا کہنا تھا کہ لباس کے بجائے وزیراعظم کے کام کو دیکھنا چاہیے۔

ایک شخص نے کہاکہ آپ کو کیا پسند ہے، گوچی کی مصنوعات پہنے نواز شریف جو امریکی کمپنی کارگل  (Cargill) جیسی کمپینیوں کی بات نہ سمجھ سکیں یا پھر عمران خان جنہوں نے کارگل کو پاکستان میں سرمایہ کاری پرآمادہ کرلیا۔

کارگل کے وفد نے جمعرات کو وزیراعظم سے ملاقات کی تھی اور پاکستان میں 20 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔

اگرچہ یہ واضح نہیں کہ عمران خان کے پاس اس طرز کی کتنی جیکٹیں ہیں لیکن کچھ نے خیال ظاہر کیا کہ وزیراعظم کے پاس شاید یہی ایک جیکٹ ہے.

تحریک انصاف کے کئی حامیوں بالخصوص خواتین نے وزیراعظم کو ملبوسات میں تبدیلی کیلئے کہا۔ لندن میں مقیم تحریک انصاف کی مونا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو تھوڑی محنت لباس کے انتخاب میں کرنی چاہیے۔ ان کے ملبوسات موقع کی مناسبت سے نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا، ’’کئی انہیں غیرملکی وفود سے ملنے کیلئے کچھ اچھے بلیزر اور سوٹ  خرید دے۔ سیاہ جیکٹ اور نہیں۔‘‘

وزیراعظم عمران خان کے لباس کے حوالے سے تحریک انصاف کی مونا کی ٹوئیٹ
عمران خان لیدر جیکٹوزیراعظم لباس