متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین لندن میں گرفتار

برطانوی پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کرلیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے صبح سویرے الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

برطانوی پولیس نے بانی ایم کیوایم الطاف حسین کومقامی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا ہے جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی جب کہ اس وقت ان کے گھر کی تلاشی لی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شمالی لندن میں ان کے گھر پر چھاپے میں 15 پولیس افسران نے حصہ لیا۔

الطاف حسین کو 2016 میں نفرت انگیز تقاریرکے مقدمات میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے حوالے سے پاکستانی حکومت نے تفصیلات برطانیہ کو فراہم کی تھیں اورلندن پولیس اپنے قانون کے مطابق الطاف حسین سے تحقیقات کرے گی۔

یٹروپولیٹن پولیس نے الطاف حسین کا نام لیے بغیر اپنے بیان میں کہا کہ منگل کے روز شمال مغربی لندن میں ایم کیو ایم کے ایک شخص کو گھر سے گرفتار کیا گیا ہے جس کی عمر 60 سال ہے، اس کی گرفتاری برطانوی قانون کی سیکشن 44 کی خلاف ورزی کے تحت عمل میں آئی اور اس کے خلاف جان بوجھ کر جرم کی مدد اور حوصلہ افزائی کا الزام ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کواگست 2016 اور اس سے پہلے کی اشتعال انگیز تقاریر کے تناظر میں گرفتار کیا گیا، جبکہ پاکستانی حکام کے ساتھ مل کراس کیس کی تحقیقات کی گئیں اوراب 2 مقامات کی تلاشی لی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق بانی ایم کیوایم کے وکلا کی جانب سے ضمانت کیلیے درخواست بھی دائرکردی گئی ہے۔ دوسری جانب ایف آئی اے کی طرف سے برطانوی وکیل ٹوبی کیڈمین الطاف حسین کے خلاف کیس میں پیش ہوں گے جب کہ جے آئی ٹی سربراہ مظہرالحق کاکا خیل کچھ دنوں میں کیس کی پیروی کیلیے لندن جائیں گے۔

دوسری جانب ذرائع کہنا ہے کہ الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری تین سال پہلے پاکستان کے فائل کردہ کیس پر ہوئی۔

ذرائع  کے مطابق حکومت پاکستان بھی 3 سال سے تحقیقات کر رہی تھی، کیس میں ایم کیو ایم پاکستان، ایم کیو ایم لندن کے بھی چار لوگ نامزد تھے اور مجموعی طورپر11 لوگوں کے ا نٹرویوز کیے گئے۔

ذرائع کہنا ہے کہ  تمام شواہد حکومت پاکستان پہلے ہی برطانوی حکومت سے شیئرکرچکی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی گرفتاری سے متعلق پاکستان کو باقاعدہ آگاہ کردیا گيا ہے اور امکان ہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم دو ہفتوں میں برطانیہ جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے پاکستان کی جانب سے لندن میں بانی ایم کیو ایم تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور حوالگی کی درخواست بھی دیئے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم نے گذشتہ ماہ دورہ پاکستان میں اہم معلومات شيئر کی تھیں اور پاکستان کو آگاہ کردیا تھا بہت جلد بڑی پیش رفت ہونے والی ہے۔

واضح رہے کہ الطاف حسین پاکستان میں قتل و غارت، دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے متعدد مقدمات میں مطلوب اور اشتہاری ہیں

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ الطاف حسین کو برطانوی اداروں نے گرفتار کیا ہے، انہیں خود تفتیش کرنے دیں۔

اعجاز شاہ نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم لندن میں گرفتار ہوئے، ہمارا اس سے کیا تعلق، وہ برطانوی شہری ہیں، کس نے کہا پاکستانی ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ الطاف حسین سے متعلق مزید معلومات کے لیے اسکاٹ لینڈ یارڈ سے رابطہ کریں۔

وفاقی وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ بانی ایم کیو ایم کی حوالگی کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔