اورنگی ٹاؤن میں فائرنگ۔2 پولیس اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے جب کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پرآگئی۔

ایس ایس پی ویسٹ شوکت کھٹیان نے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ریزور پولیس کے 2 اہلکار ڈیوٹی پر جارہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان نے انہیں نشانہ بنایا، دونوں اہلکار پولیس ٹریننگ سینٹر سعید آباد میں رہائشی کمپلیکس میں مقیم تھے۔

شوکت کھٹیان کا مزید کہنا تھا کہ شہید ہونے والے دونوں اہلکار کانسٹیبل اللہ ڈنو اور احمد علی بالترتیب ضلع سانگھڑ اور شہدادکوٹ کے رہائشی تھے۔

ایڈیشنل پولیس سرجن محمد سلیم نے عباسی شہید اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں اہلکاروں کو دو دو گولیاں لگیں، جنہیں سر اور سینے پر گولیاں ماری گئیں، فائرنگ چھوٹے اسلحے سے قریب سے کی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق دونوں اہلکاروں کے پاس اپنے بچاؤ کے لیے کوئی ہتھیار نہیں تھا اور وہ عام شہریوں کی طرح نشانہ بنے، اہلکاروں کو شدید زخمی حالت میں پولیس موبائل میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔

ایس ایچ او مومن آباد آصف منور کے مطابق دونوں اہلکار اورنگی ٹاؤن کے مومن آباد تھانہ میں دن کی ڈیوٹی پر مامور تھے اور آج صبح رہائش گاہ سے ڈیوٹی پر آرہے تھے۔

عینی  شاہدین کے مطابق نوری چوک پر اسپیڈ بریکر کی وجہ سے ان کی موٹر سائیکل آہستہ ہوئی تو موٹر سائیکل پر سوار دو ملزمان نے چھوٹے اسلحے سے پولیس جوانوں پر فائرنگ کی۔

اورنگی ٹائون میں 2پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمہ سب انسپکٹر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

دوسری جانب آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی ویسٹ سے واقعے کی انکوائری رپورٹ طلب کرلی جب کہ کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ نے ایس ایس پی ویسٹ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

حملہ آوروں کے فرار ہونے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی جس میں دو موٹر سائیکل سوار ملزمان کو فائرنگ کے بعد فرار ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے، 2 ملزمان نے پی کیپ اور ایک نے ہیلمٹ پہن رکھا ہے۔