مصر کے سابق صدر محمد مرسی انتقال کر گئے

مصر کے سابق صدر محمد مرسی عدالت میں پیشی کے موقع پربے ہوش ہونے کے تھوڑی دیربعد انتقال کرگئے۔

عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد مرسی پر قطر کیلیے جاسوسی کا الزام تھا جس کی سماعت کیلیے وہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

اطلاعات کے مطابق عدالت برخاست ہونے کے بعد 67 سالہ محمد مرسی بے ہوش ہوگئے، انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا،اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔

محمد مرسی کو2013 میں عوامی احتجاج کے بعد فوج  نے اقتدار سے بیدخل کرکے گرفتارکرلیا تھا،ان پر 2012میں صدارتی امیدوارکے کاغذات نامزدگی میں جعلسازی کے الزام میں مقدمہ چلایاگیا،عدالت نے انہیں 7سال قید کی سزا سنائی تھی۔

محمد مرسی جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے مصر کے پہلے صدر تھے جنہیں فوجی بغاوت کے نتیجے میں معزول کرکے جیل میں ڈال دیا گیاتھا۔ مصر کے سابق صدر محمد مرسی اخوان المسلمین کے مرکزی رہنما تھے۔

خیال رہے کہ مصر پر ہمیشہ سے  ڈکٹیٹرز کی حکومت ہی رہی ہے لیکن محمد مرسی پہلے صدر تھے جو جمہوری طریقے سے منتخب ہوئے تھے

2011 میں عرب بہارآئی تو اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے 30 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا جس کے بعد محمد مرسی مصر کے پہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے۔

محمد مرسی اخوان المسلمین کے پلیٹ فارم سے صدر منتخب ہوئے تھے لیکن ایک سال بعد 2013 میں ایک اور فوجی بغاوت کے نتیجے میں ان کے اقتدار کا خاتمہ کرکے انہیں جیل میں ڈال دیا گیا جبکہ ان کی جماعت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

واضع رہے کہ محمد مرسی 30جون 2012 سے 3 جولائی 2013 تک مصر کے صدر رہے۔