امریکی امداد کو لعنت سمجھتا ہوں۔وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں امداد کی کوئی ضرورت نہیں  کیونکہ یہ ہمارے لیے سب سے بڑی لعنت تھی ، جس طرح اسامہ بن لادن کے وقت امریکہ نے پاکستان میں کارروائی کی ہم ایسی صورتحال دوبارہ نہیں چاہتے ۔

امریکی تھنک ٹینک یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں سوالوں کے جوابات کے سیشن کے دوران وزیر اعظم سے امریکی امداد کے حوالے سے سوال پوچھا گیاتو اس پر عمران خان نے کہا کہ ہمیں امداد کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہماری بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں باہمی مفادات اور برابری کی سطح پر دوستانہ تعلقات چاہتا ہوں۔ پہلے پاکستان امریکہ سے امداد چاہتا تھا اور امریکہ پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا کرتا تھا لیکن اب ایسی صورتحال نہیں ہے۔ اپنے دورہ امریکہ کی وجہ سے میں اس لیے خوش ہوں کہ ہمارے تعلقات باہمی نوعیت کے ہوگئے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات سے نفرت ہے کہ کسی سے امداد مانگی جائے کیونکہ ماضی میں امریکی امداد پاکستان کیلئے سب سے بڑی لعنت تھی، یہ بہت ہی شرمناک ہے کیونکہ کوئی بھی ملک خود داری کی بنا پر اوپر اٹھتا ہے، کوئی ملک امداد اور بھیک سے آگے نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت اپنی زندگی میں سب سے زیادہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب اسامہ بن لادن کو امریکہ نے پاکستان میں گھس کر مارا۔ بطور اتحادی ہر پاکستانی کیلیے یہ شرم کا مقام تھا کہ اس کا اتحادی اس پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے، ہم دوبارہ ایسی صورتحال نہیں چاہتے ، ہم چاہتے ہیں کہ برابری کی سطح پر باوقار تعلقات ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ23 سالہ جدوجہد کے بعد اقتدار میں آیا تو لگا کہ میں سیاسی جماعتوں سے نہیں بلکہ مافیا سے نبرد آزما ہوں۔

عمران خان نے کہاہے کہ میڈیا کوکنٹرول نہیں بلکہ جوابدہ بنانا چاہتے ہیں، پاکستان میں میڈیا صرف آزاد ہی نہیں بلکہ بعض اوقات تو آﺅٹ آف کنٹرول ہوجاتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ شکیل آفریدی کے باعث این جی اوز کو نشانہ بنایاگیا اور پولیو ورکرز کا بڑا مسئلہ پیش آیا ، اقلیتوں کے حوالے جو کچھ ہم نے کیا ، اس سے پہلے کسی حکومت نے نہیں کیا ۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی کے 18 سال برطانیہ میں گزارے اور وہاں کے میڈیا کو آزاد پایا لیکن میرے خیال میں پاکستانی میڈیا برطانوی میڈیا سے بھی زیادہ آزاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا صرف آزاد ہی نہیں بلکہ بعض اوقات تو آﺅٹ آف کنٹرول ہوجاتا ہے۔تصور کریں کہ ایک ملک کے وزیر اعظم کے بارے میں کہا جارہاہوتا ہے کہ صبح ان کی طلاق ہوجائے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں صحافیوں پر تشدد ہوا ، زرداری کے دور میں صحافی غائب ہوئے،میرے وقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا،پاکستان جیسا میڈیا آپ کو کہیں نہیں ملے گا،ہمیں میڈیا واچ ڈاگ کے ذریعے انہیں کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، غلط طور پر رپورٹ کرنا شروع کردیا کہ آئی ایم ایف نے ڈالر اتنے روپے کا کرنے کا کہا ہے،یہ سنسر شپ نہیں ۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ2001 تک سرکاری ٹی وی تھا جب آزاد چینل آئے تو میرے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا اس لیے میں میڈیا کا سب سے بڑا بینفشری ہوں،میں مختلف چینلز پرجا کراپنا منشور بتاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ جب ہم پانامہ کے خلاف لڑ رہے تھے اور ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نے مے فیئر فلیٹس کہاں سے خریدے؟ تو ایک میڈیا چینل نے نواز شریف کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔یہاں تک کہ انہوں نے مجھ پر ذاتی نوعیت کے حملے کرنا شروع کردیے ،میڈیا کو اپوزیشن کا کردار ادا کرناچاہیے لیکن انہیں بلیک میلنگ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جج نے سابق وزیر اعظم کو سزا دی لیکن اپوزیشن اس کی ایک ویڈیو لے آئی اور اس کو بلیک میل کرنا شروع کردیا،میڈیا والوں کو بھی بتانا ہوگا کہ ان کی آمدن کے ذرائع کیا ہیں؟ انہیں بھی دوسرے لوگوں کی طرح ٹیکس ادا کرنا ہوگا،میڈیا کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔

امریکی تھنک ٹینک یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں اقلیتیں، ٹوئٹر، این جی اوز پر پابندی کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے جو کیا ہے وہ پہلے کسی حکومت نے نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کے خلاف کوئی جج فیصلہ نہیں سنانا چاہتا تھا، ایک گروپ کی وجہ سے خوف کا ماحول تھالیکن جب سپریم کورٹ نے اس کی رہائی کا فیصلہ سنایا تو اسی گروپ نے پاکستان کو 2 دن تک یرغمال بنائے رکھا، پھر ہم نے ان کے خلاف ایکشن لیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اقلیتوں کے حوالے سے ابھی بھی مسائل ہیں لیکن ہماری حکومت اقلیتوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے گی۔

شکیل آفریدی کے حوالے سے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ شکیل آفریدی این جی او کیلیے کام کر رہا تھا،اس کے بعد این جی اوز کو نشانہ بنایا گیا ، سب سے بڑا مسئلہ پولیو ورکرز پر حملوں کا پیش آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شکیل آفریدی کی وجہ سے دوسری این جی اوز کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا،این جی اوز نے ہی کہا ہے کہ این جی اوز کو جاسوسی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے،تین جرمن این جی اوز چھوڑ کر جاچکی تھیں لیکن اب وہ واپس آچکی ہیں۔

عمران خان نے کہاہے کہ کچھ ماہ پہلے طالبان کا وفد مجھ سے ملنا چاہتا تھا لیکن افغان حکومت نہیں چاہتی تھی کہ طالبان کی مجھ سے ملاقات ہو,اب میں واپس جاﺅں گا تو طالبان سے ملوں گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں دو طرح کا ذہن تھا جس کے باعث سٹریٹجک گہرائی کا تصور وجود میں آیا۔ پاکستان کے ایک طرف انڈیا ہے اور دوسری طرف افغانستان ہے اور پاکستان بیچ میں سینڈوچ بنا ہوا تھا لیکن آج پاکستان میں سٹریٹجک گہرائی کا کوئی تصور نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج پاک فوج اور حکومت ایک ہی پیج پر ہے ، میں نے جب بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا تو آرمی میرے پیچھے کھڑی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کسی طوربھی افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ،اور افغانستان کے لوگ خود ہی اپنا فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ ماہ پہلے طالبان کا وفد مجھ سے ملنا چاہتا تھا کیونکہ میں نے ہمیشہ افغانستان کے فوجی حل کی مخالفت کی ہے۔ لیکن افغان حکومت نہیں چاہتی تھی کہ طالبان کی مجھ سے ملاقات ہواب میں واپس جاﺅں گا تو طالبان سے ملوں گا۔ افغانستان میں الیکشن ہونا چاہیے جس میں طالبان کو بھی حصہ لینا چاہیے۔

امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں وزیر اعظم سے کالعدم جماعت الدعوہ کے امیر حافظ سعید کے حوالے سے امریکی تحفظات کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو عمران خان نے کہا کہ امریکہ کی طرح ہمارے پاس بھی آزاد عدلیہ ہے اور وہی ان کا فیصلہ کرے گی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 2014 میں پاکستانی طالبان نے اے پی ایس کے 150 بچوں کا قتل عام کیا، اس کے بعد ہم نے نیشنل ایکشن پلان بنایا اور یہ معاہدہ کیا کہ ہم کسی طور بھی کسی مسلح تحریک کی اپنے ملک میں اجازت نہیں دیں گے، ہم پہلی حکومت ہیں جنہوں نے مسلح تنظیموں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے اور ان کے اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ ہم کسی بھی مسلح تنظیم کو آپریٹ کرنے نہ دیں کیونکہ اس کی وجہ سے ہم نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ پلوامہ میں ایک کشمیری لڑکے نے حملہ کیا لیکن جس گروپ جیش محمد نے اس کی ذمہ داری قبول کی اس کے بعد پاکستان ایک بار پھر لائم لائٹ میں آگیا، حالانکہ ہم نے پہلے ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ ہم تمام مسلح تنظیموں کو ختم کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ٹرینڈ لوگ ہیں اور ان کے پاس کشمیر اور افغانستان میں لڑنے کا تجربہ ہے ، اس لیے انہیں پولیس غیر مسلح نہیں کرسکتی بلکہ فوج ہی ان سے ہتھیار واپس لے سکتی ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو ایسی دہشتگردی شروع ہوگی کہ لوگ القاعدہ کو بھول جائیں گے۔

امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایران تنازعہ پر جنگی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہیے، ایران تنازعہ کے پاکستان پر بدترین اثرات مرت ہوں گے، ایران پر حملہ ہوا تو ایسی دہشتگردی شروع ہوگی کہ لوگ القاعدہ کو بھول جائیں گے۔

پاک ایران تعلقات اور حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے کردار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے ایران کے ساتھ اتنے گرمجوش تعلقات نہیں ہیں لیکن ہمارے باہمی احترام کے تعلقات ہیں۔

فغان امن عمل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے تمام ہمسایے امن عمل میں شریک ہوں، پاکستان، افغانستان اور امریکہ سب سے زیادہ وہاں امن چاہتے ہیں باقی کوئی ملک وہاں امن نہیں چاہتا ، بہت سے ممالک کے اپنے اپنے مفادات ہیں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ امریکہ کو دوسرے ممالک کو بھی امن عمل میں شریک کرنا چاہیے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے سوویت کے خلاف جہاد لڑا اور امریکہ نے ہمیں مدد فراہم کی،جب افغان جہاد کا خاتمہ ہوا تو امریکہ نے پیک اپ کیا اور چلا گیا اور پاکستان پر پابندیاں عائد کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوویت یونین کے خلاف جہاد کے بعد پاکستان میں 40 لاکھ افغان مہاجرین اور جہادی گروپ تھے،ہمارے ملک میں ہیروئن کلچر تھا،جس کے بعد نائن الیون ہوا اور پاکستان نے ایک بار پھر امریکہ کا ساتھ دیا،اس وقت میں واحد رکن اسمبلی تھا جس نے امریکہ کی جنگ میں ساتھ دینے کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ہمیں نیوٹرل رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم ان جہادی گروپوں کو ہتھیار ڈالنے کا کہا تو وہ پاک فوج کے خلاف ہوگئے،یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور تھا کیونکہ جو لوگ افغان جہاد کیلئے پاک فوج نے بنائے تھے وہی ان کے خلاف ہوگئے تھے جس کے باعث ہمارے ملک میں حملے ہوگئے،ایک وقت ایسا بھی آگیا تھا جب آرمی شہروں میں بھی نہیں جاسکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی قبائلی علاقے میں آرمی نہیں بھیجی تھی کیونکہ یہ دنیا کا سب سے زیادہ اسلحے والا حصہ ہے،2004 میں امریکہ کے دباو کے تحت پاکستان آرمی پہلی بار قبائلی علاقوں میں القاعدہ کا خاتمہ کرنے گئی،جب بھی آپ آرمی کو سول ایریا میں بھیجتے ہیں تو کولیٹرل ڈیمیج بھی ہوتا ہے ،آرمی کے جانے سے کولیٹرل ڈیمیج ہوا جس نے پاکستانی طالبان کی بنیاد رکھی،جس کی قیمت پاکستان نے چکائی،میرے خیال میں ہمیں نیوٹرل رہنا چاہیے تھالیکن چونکہ ہم امریکہ کی جنگ کا حصہ بن گئے تھے تو اس لیے جہادی ہمارے خلاف ہوگئے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2014 میں پاکستانی طالبان نے اے پی ایس کے 150 بچوں کا قتل عام کیا،اس کے بعد ہم نے نیشنل ایکشن پلان بنایا اور یہ معاہدہ کیا کہ ہم کسی طور بھی کسی مسلح تحریک کی اپنے ملک میں اجازت نہیں دیں گےہم پہلی حکومت ہیں جنہوں نے مسلح تنظیموں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے اور ان کے اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے