سخت ترین کرفیو کے باوجود ہزاروں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے

مقبوضہ جموں و کشمیر میں جمعہ کے روز سخت ترین کرفیو کے باوجود ہزاروں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور مودی سرکارکے جبر کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ بھارتی دہشتگرد فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور پیلٹ گن استعمال کی لیکن مظاہرین نے ٹین کے ڈبوں سے بنی ہوئی شیلڈز کے ذریعے اپنا دفاع کیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ہزاروں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور مودی سرکار کے جبر کے ہتھکنڈوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔

پر امن مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے بھارتی دہشتگرد فورسز نے روایتی ہتھکنڈے اپناتے ہوئے ان پر پیلٹ گن سے فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے بھی برسائے۔

خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے بھارتی جبر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کردیا اور ٹین کے ڈبوں سے بنی ہوئی شیلڈز اور دکانوں کے بورڈز اتار کر اپنا دفاع کیا جس کے باعث کسی شہری کے شہید یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ احتجاجی مظاہرین نے خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہر کے مرکزی چوک تک جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے مظالم کی انتہا کردی اور لوگوں پر پیلٹ گن کے چھرے برساتے رہے۔

مقبوضہ وادی کے دیگر شہروں میں بھی نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں کالے جھنڈے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’ گو انڈیا ، گو بیک‘ کے نعرے درج تھے۔

بھارتی غاصب فورسز کی جانب سے مسلسل دوسرے جمعے بھی سڑکوں کو خار دار تاریں اور رکاوٹوں کے ذریعے بند کیا گیا تھا جبکہ اکثر مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے بھی روک دیا گیا۔