اپنے دن گنتے جائو،ہم اسلام آباد سے ایسے ہی نہیں اٹھے۔مولانا فضل الرحمن

مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کی جمہوریت اورآئین کے تحفظ کیلیے نکلے ہیں، حکمرانوں کے پاس مخالفین کو گالیاں دینے کے علاوہ کچھ نہیں،ان حکمرانوں کا کوئی نظریہ نہیں۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن نے بنوں میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلام آباد بلاوجہ نہیں گئے تھے اورایسے ہی نہیں آئے، آپ کے دن گنے جاچکے،آپ کی جڑیں کٹ گئیں اور چولیں ہل گئیں، ہم پاکستان کی جمہوریت اورآئین کے تحفظ کے لیے نکلے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بظاہر حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری جڑیں کٹ چکیں، اب اپنے دن گنتے جاؤ۔

انہوں نے کہاکہ چلو بھر پانی میں ڈوب مرو، سب کو چور کہنے والا آج کیا منہ دکھائے گا۔ انہوں نے اپنی بہن کو این آر او ضرور دیا، ان کی سلائی مشین کی کمائی 70 ارب ڈالر روپے ہے، ایسی کوئی مشین ہمیں بھی دلادو۔ عمران خان سے پی ٹی آئی کےاندر کے لوگ حساب مانگتےہیں،اتنا بڑا چور دوسروں کو چور کہہ رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ووٹ چوری کرکے حکومت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے لہٰذا ملک کو دوبارہ الیکشن کی طرف جانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم باوقار سیاست اور حکومت کرنا چاہتے ہیں جبکہ حکمرانوں کے پاس مخالفین کو برا بھلا کہنے کے علاوہ کچھ نہیں۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن  کہاکہ ووٹ چوری کر کے حکومت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، حکومت کے پاس کوئی نظریہ یا منصوبہ نہیں، پاکستان میں باوقار سیاست چاہتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا قوم کو دوبارہ الیکشن کی طرف جانا ہوگا، حکومت نے 10 سالہ قرضوں کی تحقیقات کیلیے کمیشن بنایا، جس نے رپورٹ پیش کی کہ ایک پیسے کی خوردبرد نہیں ہوئی، پاکستان میں اب آپ عوام کا راستہ نہیں روک سکتے، اپوزیشن جماعتوں نے ہمارا ساتھ دیا اور موقف کی حمایت کی۔

وزیراعظم کی گزشتہ روز کی تقریرکے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکمران گالم گلوچ بریگیڈ تیارکرکے اسے سیاست سمجھتے ہیں، ہم کسی کے پیچھے چھپنے والے لوگ نہیں، ہم میدان میں کھڑے ہیں

انہوں نے کہاکہ آئوَ میرے اور اپنے کردار کا مقابلہ کرو، میرے والد اور اپنے والد کے کردار کا مقابلہ کرو۔ میرے دادا اور اپنے دادا کے کردار کا مقابلہ کرو، ان باتوں سےحکومتیں نہیں چلتیں۔

انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں نے ہمارا ساتھ دیا اور موقف کی حمایت کی، آج بھی رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوگا اور آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ ہوگا۔

Comments (0)
Add Comment