کے الیکٹرک نے لوڈشیڈنگ کیلیے بہانہ ڈھونڈ لیا

کے الیکٹرک کو شہر میں لوڈشیڈنگ کا ایک اور بہانہ مل گیا جس میں اس نے بن قاسم پاور پلانٹ میں تکنیکی خرابی کو جوازبنا کر130 میگاواٹ بجلی کی کمی کی اطلاع دی ہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں اعلانیہ اورغیراعلانیہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔بجلی کا شارٹ فال پورا کرنے کے لیے کراچی کے کئی علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جا رہی تھی اب اس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے سرجانی ٹاؤن،اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، لیاقت آباد، لانڈھی، کورنگی اور لیاری کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق بن قاسم پاور پلانٹ کے ایک یونٹ پر ٹیکنیکل فالٹ کے باعث کے الیکٹرک کو بجلی کی پیداواری صلاحیت میں 130 میگاواٹ کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے کم نقصانات والے علاقوں میں عارضی لوڈ مینجمنٹ ہوگی۔

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں کچھ دیر کے لیے لوڈشیڈنگ کی جائے گی اور اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا شیڈول کے الیکٹرک کی ویب سائٹ پر جاری کردیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق لوڈ مینجمنٹ کی پیشگی اطلاع دی جاچکی ہے اور لوڈ مینجمنٹ کا شیڈول کے الیکٹرک کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ترجمان کا بتانا تھا کہ فرنس آئل کی فراہمی کے لیے وزارت توانائی سے رابطے میں ہیں، فالٹ کی درستگی پر عارضی لوڈ مینجمنٹ کو ختم کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب کیبل اور انٹرنیٹ ایسوسی ایشن سے متعلق ترجمان کا کہنا تھا کہ کیبلز ایسوسی ایشن نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی تاروں کو اب تک انڈر گرائونڈ نہیں کیا حالانکہ کیبلز ایسوسی ایشنز اور پٹاپا کی جانب سے تاریں انڈر گرائونڈ کرنے کا پہلا مرحلہ جولائی 2020 تک مکمل ہونا تھا۔کے الیکٹرک ترجمان کے مطابق انٹرنیٹ ٹی وی کیبلز کی وجہ سے بارشوں کے دوران ماضی میں ہلاکتیں ہوئیں اور یہ عوام کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ کیبل ایسوسی ایشنز نے کمشنر کراچی اور دیگر حکام کو کے الیکٹرک کے پولز سے اپنی تاریں ہٹانے کی یقین دہانی کروائی تھی مگر کیبل اور انٹرنیٹ ایسوسی ایشن کی اچانک ہڑتال بلیک میلنگ کے لیے کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کیبل ایسوسی ایشنزاورپٹاپا عوام کے تحفظ کے برعکس کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں۔ترحمان نے بتایا کہ عوام کے وسیع ترمفاد میں اپنے انفرا اسٹرکچرپرموجود غیرقانونی ٹی وی، انٹرنیٹ کیبلزکے خلاف مہم جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

Comments (0)
Add Comment