مشینری،بندے ہمارے،پتا نہیں این ڈی ایم اے کیوں آیا۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات اور نالوں کی صفائی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کراچی کی صفائی کیلیے 30 اگست تک وقت مانگ لیا۔ چیف جسٹس نے باتھ آئی لینڈ نالے پر قبضے ختم کرانے کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس گلزار احمدنے کہا اگر سندھ حکومت نالوں کی صفائی کررہی تھی تو این ڈی ایم اے کیوں آیا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین بولے پتا نہیں کیوں آیا۔ مشینری ہماری، لوگ ہمارے، این ڈی ایم اے کا صرف ایک سپروائزر کھڑا ہوتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریماکس دیے کہ آپ چاہتے ہیں ہم این ڈی ایم اے کو کام کرنے سے روک دیں۔۔ این ڈی ایم اے جاپان نہیں پاکستان کا ہی ادارہ ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے صفائی کیلیے 30 اگست تک کا وقت مانگ لیا۔

چیف جسٹس نےکمشنرکراچی کو ہدایت دی کہ باتھ آئی لینڈ نالے پر قبضے کو ختم کرائیں۔ خالد بن ولید روڈ اورکلفٹن روڈ پر سارے درخت کاٹ دیئے گئے۔ شہر میں درخت بھی لگائیں۔

کورنگی روڈ پرتجاوزات اوردن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک سے متعلق خاتون کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے کمشنر کراچی، کے ایم سی اوردیگر کو نوٹسز جاری کر دیے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے کسٹم کلب کے انہدام کیخلاف نظرثانی کی درخواست بھی مسترد کردی۔