آذربائیجان نے ایران سے ملحقہ سرحدی علاقہ آرمینیا کے قبضے سے چُھڑالیا

آذربائیجان نے ایرانی سرحد سے ملحق نگورنو کاراباخ کے علاقےکو آرمینیا سے آزاد کرواکر اس پر اپنا مکل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
پاکستان میں تعینات آذری سفیر علی علی زادہ کا کہنا ہے کہ ایران سے ملحقہ اگبند کے علاقے کو آرمینی فوج کے قبضے سے چھڑانےکے بعد وہاں آذربائیجان کا جھنڈا لہرا دیا گیا ہے۔
آذری سفیر کا کہنا ہے کہ اگبند پر کنٹرول کے بعد ایران اور آذربائیجان کے درمیان سرحد مکمل طور پر محفوظ ہوگئی ہے۔
علی علی زادہ نے مزید بتایا کہ آذری فوج نے آرمینیا کے قبضے سے اگبند کے سرحدی علاقے سمیت مزید 20 گاؤں بھی آزاد کرالیے ہیں۔
آذری صدر الہام علیوف نے بھی اپنے بیان میں اگبند کے سرحدی علاقے کو آرمینی فوج کے قبضے سے آزاد کرنے پر خوشی کا اظہارکیا ہے۔
الہام علیوف کا کہنا ہے کہ وہ اس خوشی کے موقع پر آذربائیجان اور ایران کے عوام کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں اور اپنی بہادر فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان نگورنو کاراباخ کے معاملے پر کئی روز سے جنگ جاری ہے جس میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی کی دو بار کوشش کی گئی تاہم کچھ ہی دیر میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں سامنے آگئیں۔
واضح رہے کہ دونوں ممالک نگورنو کارا باخ کے علاقے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم نگورنو کاراباخ کا علاقہ باضابطہ اور عالمی طور پر تسلیم شدہ آذربائیجان کا حصہ ہے لیکن آرمینیا کے نسلی گروہ نے 1990 کی جنگ میں آرمینیا کی مدد سے یہاں قبضہ کرلیا تھا اور اب یہ آرمینیائی فوج کے کنٹرول میں ہے۔
آرمینی اور آذربائیجان کی فوجوں کے درمیان اکثر اس علاقے میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، رواں سال جولائی میں بھی اسی طرح کے ایک تصادم میں دونوں جانب کے 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔