بھارتی قید سے رہائی پانے والے19ماہی گیرلاہور سے کراچی فش ہاربر پہنچ گئے۔

بھارتی قید سے رہائی پانے والے ماہی گیروں کا چیئرمین عبدالبر نے استقبال کیا،پھولوں کے ہار اور سندھی ثقافت اجرک کا تحفہ پیش کیا گیا،نقد رقوم بھی تقسیم کی گئیں،کراچی پہنچنے والے ماہی گیر عزیز و اقارب سے ملتے ہی اشکبار ہو گئے۔

ماہی گیر فرط جذبات پر قابو نہ رکھ سکے،کراچی فش ہاربرپاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا،علی نواز نامی ماہی گیر کو کرونا پازٹیو آنے پر لاہور میں قرنطینہ کر دیا گیا۔

چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبررہائی پانے والے ماہی گیروں کی حالت زار دیکھ کر نریندر مودی حکومت پر برس پڑے،وفاقی حکومت سے بھارتی قید میں موجود ماہی گیروں کا معاملہ فوری طور پر عالمی عدالت انصاف میں اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ۔

بھارتی قید سے رہائی پانے والے19ماہی گیرلاہور سے کراچی فش ہاربر پہنچے ۔رہائی پانے والے ماہی گیروں نے بتایاکہ بھارتی جیلوں میں دوران قید ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہوتا رہا ہے۔نشہ آور ادویات اور انجکشن لگائے جاتے تھے۔ماہی گیروں نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا تھا جب بھارتی جیل حکام انہیں تشدد کا نشانہ نا بناتے ہوں۔

وہ ہمیں پاکستانی اور مسلمان ہونے کی بنا پر ہم سے سخت نفرت کرتے تھے۔وہاں جیلوں میں موجود ہمارے دیگر ساتھی ماہی گیروں کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔وفاقی حکومت فوری طور پر بھارتی جیلوں میں موجود95ماہی گیروں کو بھارتی جہنم سے نجات دلائے۔

اس موقع پر چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبرنے ملکی اور غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت ایک سال کے دوران 500بھارتی ماہی گیروں کو رہا کر کے تحفے تحائف دیکر رخصت کیا۔جبکہ بھارت نے اس کے بر عکس ہمیں 3ماہی گیروں کی تشدد زدہ لاشیں بھیجیں،اور115ماہی گیروں میں سے صرف 20ماہی گیروں کو رہا کیا۔

پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو پھانسی پر لٹکانے کے بجائے اسے قونصلر رسائی دی،اور اس کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں چل رہا ہے۔پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے آنے والے بھارتی پائلٹ ابھ نندن کو زندہ سلامت بھارتی حکومت کے حوالے کیا۔

اب ہمارے ماہی گیر ہم سے سوال کرتے ہیں کہ جذبہ خیر سگالی صرف پاکستان کی طرف سے کیوں ہے۔بھارت کی طرف سے کیوں نہیں ہے۔ہماری وزارت خارجہ 500بھارتی ماہی گیروں کو رہا کرتے وقت اپنے صرف 115ماہی گیروں کو رہا کروانے کی بات کیوں نہیں کرتی،ہم انہیں صحت مند ماہی گیر واپس کرتے ہیں۔

مگر بھارت ہمیں زندہ لاشوں کی صورت میں ماہی گیر واپس کرتا ہے۔ہم ان کے ماہی گیروں کو اچھے کھانے کھلاتے ہیں اور بھارت ہمارے قیدی ماہی گیروں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیوں کرتا ہے۔

اس حوالے سے چیئرمین عبدالبر نے کہا کہ ماہی گیروں کے ان سوالات کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔مگر وفاقی حکومت اور وزارت خارجہ کو زمہ داری لیتے ہوئے ماہی گیروں کے ان سوالات کا نہ صرف جواب دینا چاہیے۔بلکہ اپنی خارجہ پالیسی پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔

وفاقی حکومت بھارتی مودی حکومت کا بھیانک چہرہ بے نقاب کرنے کے لیے ماہی گیروں کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جائے۔اور ہمارے بھارتی جیلوں میں قید 95ماہی گیروں کی فوری رہائی کے لیے اقدامات نہیں کیے۔تو20لاکھ ماہی گیراحتجاج کے لیے سڑکوں پر ہوں گے۔اور اس معاملے کو خود عالمی عدالت انصاف لے کر جائیں گے۔

چیئرمین عبدالبر نے مزید کہا کہ نریندر مودی حکومت نے مسلمان دشمنی میں تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی عزاب بنانے کے ساتھ ساتھ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔مگر بھارتی حکومت جتنے بھی مظالم ڈھا لے۔ایک دن کشمیری آزادی حاصل کر کے رہیں گے۔اور بہت جلد کشمیر بنے گا پاکستان۔اللہ پاک مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائے گا۔

چیئرمین عبدالبر نے بتا یا کہ کرونا پازٹیو آنے کی وجہ سے لاہور میں زیر علاج ماہی گیرعلی نواز کو بھی جلد کراچی لایا جائے گا۔اور بھارتی قید میں موجود ماہی گیروں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔