سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب

0

نواسۂ رسولؐ سیدنا حضرت حسین ؓوہ عظیم ہستی ہیں کہ جن کے فضائل و مناقب، سیرت و کردار اور کارناموں سے تاریخ اسلام کے صفحات روشن ہیں۔ سیدنا حضرت حسینؓ نے خاندانِ نبوت، فاتح خیبر سیدنا حضرت علی المرتضیؓ کے گھر میں آنکھ کھولی۔ آپؓ کے نانا ہادی عالمؐ نے آپؓ کے کان میں بنفس نفیس آذان دی۔ اپنے پاکیزہ اور مبارک ہاتھوں سے شہد چٹایا۔ اپنا لعاب مبارک آپ کے منہ میں داخل فرمایا، دعائیں دیں اور حسین نام رکھا۔ پھر آپؐ نے حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراؓ کو ’’عقیقہ‘‘ کرنے اور سر کے بالوں کے برابر چاندی خیرات کرنے کی تلقین فرمائی۔ سیدنا حضرت حسینؓ نے اپنے نانا حضور اکرمؓ سے بے پناہ شفقت و محبت کو سمیٹا اور سیدنا حضرت علی المرتضیؓ کی آغوش محبت میں تربیت و پرورش پائی۔ جس کی وجہ سے آپ فضل و کمال، زہد و تقویٰ، شجاعت و بہادری، سخاوت، رحمدلی، اعلیٰ اخلاق اور دیگر محاسن و خوبیوں کے بلند درجہ پر فائز تھے۔ حضور اکرمؐ کو آپؓ سے بہت زیادہ محبت تھی، آپ حضرت حسینؓ کو گود میں اٹھاتے، سینہ مبارک پر کھلاتے، کاندھے پر بٹھاتے اور کبھی ہونٹوں پر بوسہ دیتے اور رخسار چومتے۔ آپؓ کے والد مکرم سیدنا حضرت علی المرتضیؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا حضرت حسنؓ سینہ سے لے کر سر مبارک تک حضور اکرمؐ کے مشابہ تھے اور سیدنا حضرت حسینؓ قدموں سے لے کر سینہ تک حضور اکرمؐ کے مشابہ تھے اور آپ کے حسن و جمال کی عکاسی کرتے تھے۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک روز حضور اقدسؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حسنین کریمینؓ حضور اقدسؐ کے سینہ مبارک پر کھیل رہے ہیں! میں نے عرض کیا: حضور! کیا آپ ان دونوں سے اس درجہ محبت فرماتے ہیں؟ آپؐ نے جواب میں فرمایا: کیوں نہیں، یہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں۔ ایک موقعہ پر حضور اقدسؐ نے حسنین کریمینؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا: جس نے ان دونوں کو محبوب رکھا، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا (ابن ماجہ)
ایک مرتبہ حضور اکرمؐ نے سیدنا حضرت حسینؓ کے رونے کی آواز سنی تو آپؐ نے حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراؓ سے فرمایا کہ تم کو معلوم نہیں کہ ان کا رونا مجھے غمگین کرتا ہے؟
شہید کربلا سیدنا حضرت حسینؓ کے زہد و تقویٰ اور عبادت گزاری کی یہ حالت تھی کہ آپؓ شبِ زندہ دار تھے اور سوائے ایام ممنوعہ کے ہمیشہ روزہ سے ہوتے۔ قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے فرماتے اور حج بھی بکثرت کرتے۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے پچیس حج پیدل فرمائے۔ آپؓ کی مجالس وقار و متانت کا حسین مرقع اور آپ کی گفتگو علم و حکمت اور فصاحت و بلاغت سے بھرپور ہوتی۔ لوگ آپ کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے اور ان کے سامنے ایسے سکون اور خاموشی سے بیٹھتے تھے، گویا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ آپؓ بہت زیادہ حلیم الطبع اور منکسر المزاج تھے، مالی حیثیت میں کمزور لوگوں سے بھی خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ بعض مرتبہ آپؓ غرباء کے گھروں پر خود کھانا پہنچاتے تھے، اگر کسی قرض دار کی سقیم حالت کا پتہ چلتا تو خود اس کا قرض ادا کر دیتے تھے۔ حضرات حسنین کریمینؓ میں سے کوئی کعبہ کے طواف کیلئے نکلتا تو انہیں سلام و مصافحہ کیلئے لوگ اس طرح پروانہ وار ٹوٹ کر گرتے کہ ڈرلگتا کہ کہیں ان کو تکلیف و صدمہ نہ پہنچے۔ ایک موقع پر حضور اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں، جو حسینؓ سے محبت کرے حق تعالیٰ اس سے محبت کریں گے، حسین میری اولاد کی اولاد ہے۔ (ترمذی)
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More