سچے خوابوں کے سنہرے واقعات

0

خواب میں بتایا گیا معیار باعث برکت :
والدین کی اطاعت، ان سے حسن سلوک اور ان کی خدمت کے ایک واقعہ کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ ایک آدمی کے چار بیٹے تھے، وہ بوڑھا ہوچکا تھا۔ اب بستر مرگ پر تھا۔ اس کے بیٹوں میں سے ایک بیٹے نے تجویز پیش کی کہ جو والد کی خدمت کرے وہ والد کی جائیداد میں اپنے حصے سے دستبردار ہوجائے۔
یہ تجویز سن کر باقی تینوں بھائیوں نے کہا: والد کی خدمت کی ذمہ داری تمہی قبول کرلو، چنانچہ وہ والد کی خدمت کرنے لگا۔ آخر کار ایک دن باپ کا انتقال ہوگیا۔
والد کے انتقال کے بعد بھائیوں کے مابین ترکہ تقسیم ہوا تو حسب شرط چوتھے بھائی کو کچھ نہ ملا۔ کچھ دنوں بعد اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے: فلاں جگہ جاؤ، وہاں سو دینار دفن ہیں، وہ نکال لو۔
اس نے خواب ہی میں پوچھا: کیا ان دیناروں میں برکت ہے؟ جواب ملا: نہیں۔ صبح ہوئی تو اس نے بیوی سے اپنا خواب بیان کیا۔ بیوی نے کہا کہ جاؤ سو دینار لے آؤ، ہم اس سے کپڑے وغیرہ بنوائیں گے اور گھر میں کھانے پینے کی کچھ چیزیں خرید کر رکھ لیں گے۔ لیکن اس نے یہ دینار نکالنے سے انکار کردیا۔
کئی راتیں اسے مسلسل یہی خواب آتا رہا۔ خواب کے دوران اسے یہی بتایا جاتا تھا کہ ان دیناروں میں برکت نہیں۔
ایک رات اسے خواب میں کہا گیا: فلاں جگہ جاؤ، وہاں ایک دینار دفن ہے، اسے نکال لو۔
اس نے خواب میں پوچھا: کیا اس دینار میں برکت ہے؟ جواب ملا: ہاں، چنانچہ وہ وہاں گیا اور ایک دنیار نکا لایا۔ دینار لے کر بازار گیا، تاکہ کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لائے۔ اس نے ایک آدمی دیکھا، جو مچھلی بیچ رہا تھا۔ ایک دنیار میں اس نے دو مچھلیاں خریدلیں اور گھر آگیا۔
گھر پہنچ کر جب اس نے مچھلی کو پکانے کے لئے کاٹا تو دونوں مچھلیوں کے پیٹ سے ایک ایک موتی نکلا۔ یہ موتی نہایت خوبصورت اور بیش قیمت تھے۔ اس زمانے کا بادشاہ موتیوں کا بہت شوقین تھا۔ وہ طرح طرح کے موتی خریدتا اور انہیں میوزیم میں سجا دیتا تھا۔ اسے ایک خوبصورت موتی کی ضرورت تھی۔ اس نے اپنے آدمیوں کو موتی کی تلاش میں بھیجا۔ وہ اس نوجوان کی خدمت میں پہنچے اور ایک موتی تیس ہزار دینار میں خرید کر بادشاہ کے پاس لے گئے۔
بادشاہ نے جب موتی دیکھا تو ہکا بکا رہ گیا۔ اسے یہ موتی بہت ہی خوبصورت لگا۔ وہ خوشی سے جھوم اٹھا اور بولا: یہ موتی لاجواب ہے۔ میں نے آج تک اتنا درخشاں موتی نہیں دیکھا۔ تم لوگ ایسا ایک اور موتی خرید لاؤ۔ میں چاہتا ہوں کہ اس معیار کے دو موتی ساتھ ساتھ رکھوں۔
بادشاہ کے حکم پر اس کے کارندے دوبارہ باپ کے فرمانبردار نوجوان کے پاس پہنچے اور دوسرا موتی بھی خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔ نوجوان نے دوسرا موتی بھی ساٹھ ہزار دینار میں بیچ دیا۔
حق تعالیٰ نے چوتھے بھائی کو اس کی نیت کا کتنا اچھا پھل دیا۔ جسے وراثت میں ایک پیسہ بھی نہیں ملا تھا، اسے باپ کی خدمت کے صلے میں کتنی بڑی دولت مل گئی۔ جو والدین کی خدمت کرتا ہے، اسے دنیا اور آخرت میں عظیم الشان انعامات ربانی سے نوازا جاتا ہے۔ (والدین کی اطاعت و نافرمانی کے واقعات، از مولانا عبدالمالک مجاہد ص: 374.371)
خوابوں کو ایک دوسرے پر قیاس کی وجہ:
علامہ ابن قیمؒ نے اعلام الموقعین عن رب العٰلمین میں ایک باب خوابوں کی تعبیر کا باندھا ہے۔ اس میں انہوں نے تمثیل کی تشریح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ خوابوں کو ایک دوسرے پر کس وجہ سے قیاس کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے ارشادات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
(جاری ہے)
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More