پنجاب میں اشتہاریوں کی گرفتاریوں کیلئےمہم چلانے کاحکم

0

لاہور(امت نیوز) پنجاب میں سنگین جرائم میں ملوث اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کیلئے بھرپورمہم چلانے کاحکم دیاگیاہے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا ،جس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور جرائم پر قابو پانے کیلئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرائم کی بیخ کنی کے لئے زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ڈکیتی ،راہزنی اوردیگر جرائم کے سدباب کیلئے ٹھوس حکمت عملی بنائی جائے کیونکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی ترجیح نہیں ۔ وزیراعلیٰ نے سنگین جرائم میں ملوث اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کیلئے صوبہ بھر میں بھر پور مہم چلانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ انہیں پیش کی جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ زیر التواء کیسوں کو جلد نمٹانے کے لئے تیزرفتاری سے اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جرائم کی شرح بڑھنے پر متعلقہ پولیس افسر سے جواب طلبی کی جائے گی، عوام کی جان و مال کے تحفظ میں تساہل برتنے والے افسروں کو جواب دینا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اعداد وشمار کی بجائے جرائم کے سدباب کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں ۔امن وامان کے حوالے سے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔ صورتحال کا باقاعدگی سے خود جائزہ لوں گاکیونکہ جرائم کا خاتمہ اورعوام کے جان و مال کا تحفظ پہلے اوردوسرے کام بعد میں ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس کسی سیاسی دباوٴ کو خاطر میں رکھے بغیر فرائص سرانجام دے۔اچھی کارکردگی کا مظاہر کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایاجائے،کو ئی اثرورسوخ خاطر میں نہ لایا جائے ۔ صوبے میں قانون کی عملداری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔پولیس عوام کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے ،میں پولیس فورس کو بھرپور سپورٹ کروں گا۔انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کا مورال بھی بلند کرنا ہے اوراسے اعتماد بھی دینا ہے ۔پولیس افسران ہر ضلع اورڈویژن میں کھلی کچہریاں لگا کرسائلین کے مسائل حل کریں۔پولیس کو سائلین سے نرمی اورخوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پولیس کی جدید خطوط پر تربیت کے لئے ریفریشر کورسز کرائے جائیں اور پولیس فورس ہفتہ خوش اخلاقی منائے۔ انہوں نے کہا کہ افسران عوام کے مسائل کے حل کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھیں۔سائل کو تھانوں میں تبدیلی کا احساس ہونا چاہیے۔عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے پولیس کو نتائج دینا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو روایتی انداز چھوڑ کرسائنٹیفک انداز میں مقدمات کی تفتیش پر توجہ دینی چاہیے۔ میں ہر 15روز بعد امن وامان کی صورتحال سے متعلق میٹنگ کروں گا۔وزیراعلیٰ نے پولیس حکام سے ہر ضلع میں امن و امان سے متعلق صورتحال کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے ۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ،قائم مقام انسپکٹر جنرل پولیس،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب اوراعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More