شہباز نے منہدم ڈیم ٹھیکے پر پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کردیا

0

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے مہمند ڈیم کے ٹھیکے کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جسے کورم ٹوٹنے کے باعث کچھ تاخیر کا بھی سامنا کرنا پڑا جبکہ اراکین اسمبلی کی جانب سے قرارداد اور تحریک بھی پیش کی گئیں۔ایوان میں خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے مختصر خطاب میں مہمندڈیم کے ٹھیکے پر بات کی اور کہا کہ ہر پاکستانی کا یہ حق ہے کہ وہ جانے کہ ٹھیکہ کس طرح دیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مشیر رزاق داؤد کی کمپنی کو ٹھیکہ دینا مفادات کا ٹکراؤ ہے، میرا وزیر اعظم کے مشیر سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں لیکن یہ بات پاکستان کی ہے کہ عوام کے 309ارب روپے کا ٹھیکہ ایک بولی پر دیا جارہا۔ان کا کہنا تھا کہ عوام اور مانگے تانگے کا پیسہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر خرچ کیا جارہا ہے، لہٰذا ہر پاکستانی کو جاننے کا حق حاصل ہے کہ ملکی پیسہ کہاں خرچ ہورہا ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پیپرا رولز کی بات کی جائے تو میں اس کی درجنوں مثالیں دے سکتا ہوں، ہم نے اپنے دور میں ملک کے وسیع تک مفاد میں بڑے بڑے منصوبوں میں کم بولی لگانے والوں سے بھی اربوں روپے کم کروائے۔انہوں نے کہا کہ میں نے گزارش کی تھی کہ ایوان کی کمیٹی قائم کی جائے تاکہ وہ اس معاملے کو دیکھے اور ایک ہفتے میں پورے معاملے کی جانچ پڑتال کرکے آپ کو رپورٹ پیش کرے۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایک تحریک اور قرار داد پیش کی۔علی محمد خان کی جانب سے ارکان اسمبلی کے طرز عمل کی نگرانی کے لیے کمیٹی کے قیام کی تحریک کو ایوان نے منظور کیا۔یہ کمیٹی ایوان اور اس کے باہر ارکان کے طرز عمل کے خلاف شکایات یا رپورٹس کا جائزہ لے کر سفارشات دے گی جبکہ ارکان کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملات بھی دیکھے گی۔اس کمیٹی میں قومی اسمبلی کی تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر شامل ہوں گے۔اجلاس کے دوران علی محمد خان نے بلوچستان کے قحط زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کی قرار داد پیش کی، جسے منظور کرلیا گیا۔قرار داد میں موقف اپنایا گیا کہ قحط کی وجہ سے انسانوں اور جانوروں کو نقصان ہو رہا ہے، لہٰذا بلوچستان کے قحط زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے۔اسمبلی اجلاس کے دوران اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے گزشتہ روز سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو ایوان سے نکالنے پر معذرت بھی کی گئی اور کہا گیا کہ ان کی رکنیت کی بحالی کا نوٹیفکیشن تاخیر سے موصول ہوا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More