نیب نےسابق لیگی وزیر کامران مائیکل کو بھی دھرلیا

0

لاہور( رپورٹ: نجم الحسن عارف)سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی کابینہ میں پورٹ اینڈ شینگ کے وزیر رہنے والے کامران مائیکل کو نیب نے کراچی پورٹ قاسم ٹرسٹ کے پلاٹ من پسند افراد کو الاٹ کرنے اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزام میں گرفتار کرلیا۔انہیں آج ہفتے کے روز احتساب عدالت میں ریمانڈ کے لئے پیش کیا جائے۔ ”امت“ کے ذرائع کے مطابق مسلم لیگی حلقے بھی اس امرکی تصدیق کرتے ہیں کہ کامران مائیکل کے خلاف اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور غلط ذرائع سے روپیہ بنانے کے الزامات ان کے دور وزارت میں ہی شروع ہو گئے تھے۔ ان کے دور وزارت میں خود پارٹی میں ان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے دوست بھی انہی بنیادوں پر ان دور ہونا شروع ہوگئے تھے۔ ”امت“ کے ذرائع کے مطابق نیب میں ان کے خلاف شکایات اور انکوائری کی اطلاعات تو کئی سال پرانی ہیں لیکن انکوائری کب کس مرحلے میں پہنچی اس بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہوئیں۔ ”امت“ کے ذرائع کے مطابق کامران مائیکل وزارت سے پہلے عام سی مسیحی آبادی میں رہتے تھے لیکن وزارت میں آنے کے بعد انہوں نے تین سال قبل لاہور کے پوش علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایک بڑے گھر میں بسیراکرلیاتھا۔پارٹی کے لوگوں میں یہ چہ مگوئیاں رہیں کہ انہوں نے یہ بڑا گھر مبینہ طور پر کرپشن کے پیسے سے خریدا ہے۔ تاہم کامران مائیکل انہیں بتاتے رہے کہ یہ ان کا کرائے کا مکان ہے البتہ اس کی تزئین و مرمت انہوں نے خود اور اپنی مرضی کی کرائی ہے۔ واضح رہے لاہور سے اقلیتی نشست پر رکن اسمبلی بننے میں کامران مائیکل ہمیشہ خواجہ سعد رفیق کے ممنون احسان رہے۔عملاً خواجہ سعد رفیق کو ان کا سیاسی گرومانا جاتا ہے۔ اتفاق سے آجکل خواجہ سعد رفیق بھی اپنے بھائی سمیت نیب کے ریفرنس کے باعث زیر حراست ہیں۔ ”امت“ کو ذرائع نے بتایا ہے کہ کامران مائیکل پر اس سے قبل اسلام آباد اور مری کے قریبی علاقے میں ایک گرجا گھر کی جگہ فروخت کردینے کا بھی الزام لگتا رہا ہے۔ کامران مائیکل نے مسلم لیگ نواز میں اپنے سیاسی گرو خواجہ سعد رفیق کے زیر قیادت تیزی سے جگہ بنائی اور جلد ترقی کرجانے کی وجہ سے پارٹی کے اندر بھی چہ مگوئیوں کی زد میں آتے رہے لیکن پارٹی نے ان کے خلاف کبھی انکوائری کرائی نہ انضباطی کارروائی ہوئی۔ البتہ نیب نے ان کی جمعہ کی شام گرفتاری کی تصدیق کردی اور آج انہیں نیب عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ لینے کا عندیہ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت پورٹ اینڈ شپنگ کے دوران کامران مائیکل کا مبینہ فرنٹ مین خیبر پختون سے تعلق رکھنے والا تیل کمپنی کا عہدیدار عمران شاہ تھا، اسے نیب نے تین ہفتے قبل کراچی سے گرفتار کیا تھا۔ کامران مائیکل نے کوئنز روڈ کراچی پر اربوں مالیت کاچار سے پانچ ہزار گز کا پلاٹ عمران شاہ کے نام چار سے پانچ کروڑ میں الاٹ کیا۔ نیب ذرائع کے مطابق عمران شاہ اب کامران مائیکل کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گیا ہے۔ اسے بھی آج احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔پہلے سے گرفتار سابق وزیر ریلوے کے کراچی میں مقیم قریبی عزیز کا نام بھی اس کیس میں لیا جارہا ہے جو الیکشن میں ن لیگ کے ٹکٹ پر امیدوار بھی تھا۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ کامران مائیکل کو لاہور سے گرفتار کیا گیا۔نیب ترجمان کے مطابق کامران مائیکل نے 3 کمرشل پلاٹوں کے عوض بھاری رشوت لی اور 2013 میں افسران پر غیرقانونی الاٹمنٹ کیلئے دباؤ ڈالا۔نیب کا کہنا ہے کہ کامران مائیکل پر اسی طرح کے 16 پلاٹس کے حوالے سے ریفرنس بھی فائل کیا گیا ہے۔ کامران مائیکل اقلیتوں کی مخصوص نشست پر مارچ 2012 سے تاحال سینیٹر ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More