کوئے ملامت کا طواف

0

پاکستان کے زیرک اور تجربہ کار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اگر یہ کہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے رفقا کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے دوبئی میں ملاقات بہت اچھی اور مفید رہی اور مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی خوشی ہو رہی ہے کہ ہماری اور آئی ایم ایف کی سوچ میں خاصی مطابقت پائی جاتی ہے تو تحریک انصاف کی حکومت اور رہنما و کارکنان کیوں نہ خوشی سے سرشار ہوں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اظہار اطمینان و مسرت پر اہل وطن البتہ حیرت زدہ ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ملاقات پاکستان یا آئی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹرز میں نہیں ہوئی، بلکہ اس کا اہتمام دوبئی میں کیا گیا۔ دوم، ایک آزاد اور خود مختار ملک کے وزیر اعظم کا سود خور عالمی مالیاتی ادارے کی سربراہ سے ملنا، پاکستان کیلئے یقینا باعث ندامت ہے، خواہ وزیر اعظم عمران خان کو کسی قسم کی ندامت نہ ہوئی ہو۔ سوم، چھ ماہ سے جاری مذاکرات میں ایسی کیا خاص بات یا خفیہ شرائط تھیں، جن کیلئے دوبئی میں ملاقات ضروری قرار پائی؟ وہ بھی ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کی سائیڈ لائن پر۔ چہارم، پاکستان نے اس ضمن میں حکومتی سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں، البتہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کئے جانے والے پریس ریلیز کے مطابق کرسٹین لیگارڈ نے عمران خان سے ملاقات کو سود مند قرار دیا۔ پنجم، وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کو خود کشی کے مترادف قرار دیا تھا، وہ تو کیا خود کشی کریں گے، لیکن ان کی حکومت نے عوام پر مہنگائی، بیروزگاری اور ٹیکسوں کے پے درپے بم گرا کر ان کی ہلاکت کا ایک طویل سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ مسلم لیگ کے سینئر رہنما احسن اقبال اور خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کے دوران حکومت چودہ کھرب روپے کے نوٹ چھاپ کر افراط زر اور مہنگائی کا طوفان لاچکی ہے۔ ششم، عمران خان کی حکومت نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط، اس کے ساتھ مذاکرات سے قبل ہی تسلیم کرلی تھیں تو آئی ایم ایف کی سربراہ سے ملاقات کا نیا ڈراما رچانے کی کیا ضرورت تھی؟ ہفتم، آئی ایم ایف کی پہلے سے تسلیم کردہ شرائط کے تحت پاکستانی روپے کو امریکی ڈالر کے آگے بے آبرو کرنے کیلئے اس کی قدر پینتیس فیصد گھٹائی جا چکی ہے۔ ہشتم، بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات میں ریکارڈ اضافہ کرکے مہنگائی کا ختم نہ ہونے والا سیلاب برپا کر دیا گیا ہے۔ نہم، غریبوں کیلئے بعض اشیا پر جو حکومتی زرتلافی (سبسڈی) دیا جاتا تھا، اسے حج سمیت ہر جگہ ختم کردیا گیا ہے۔ دہم، وزیراعظم کا امداد اور قرضوں کیلئے عالمی گداگر کی طرح در در جانا پاکستان کی رسوائی کا سبب بن رہا ہے، جس کا ہوس اقتدار میں انہیں شاید احساس تک نہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی قوم کو ذرا یہ بھی بتادیں کہ دوبئی میں وزیر اعظم عمران خان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات کن معنی میں بہت اچھی اور مفید رہی؟ پھر یہ کہ حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کی سوچ میں ’’خاصی مطابقت‘‘ کی بنیاد کیا ہے؟ کیا صرف پاکستان کے لوگوں پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ لادتے چلے جانا۔ ایک اطلاع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (IMF) سے قرضہ لینے کیلئے پاکستان دو کھرب تیس ارب کے نئے ٹیکس لگانے پر تیار ہو گیا ہے۔ پرانی شرائط کے ساتھ اس نئی شرط کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا جو طوفان آئے گا اس کا فوری طور پر تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے لٹیرے سیاستدانوں، حکمرانوں اور نوکر شاہی کے کل پرزوں کے پاس اندرون و بیرون ملک جو دولت، جائیدادیں اور اثاثے موجود ہیں ان کی مالیت چند ارب نہیں، کئی کھرب ڈالر بنتی ہے۔ اسے وصول کرنے پر توجہ دینے کے بجائے تحریک انصاف کی حکومت دوسرے ملکوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے بارہ ارب ڈالر کے لئے ہاتھ پھیلاتی پھر رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے بڑی ردوقدح اور سخت ترین شرائط کے بعد جو کچھ ملے گا، وہ صرف چھ ارب ڈالر ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکمرانوں نے عوام کا پیسا عیاشی میں اڑایا۔ ان پر لوگوں نے کبھی اعتماد نہیں کیا، اس لئے وہ ٹیکس دینے سے گریز کرتے تھے۔ انہوں نے بھی اہل وطن سے شکایت کی کہ وہ خیرات دینے میں آگے، لیکن ٹیکس دینے میں پیچھے ہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ غریب اور متوسط طبقوں کے لوگ بازار سے خریدی جانے والی ہر چیز پر بھتا اور غنڈا ٹیکس دینے پر مجبور ہیں، جبکہ مقتدر اور متمول طبقات ٹیکسوں سے بچنے اور سرکاری وسائل کی لوٹ مار کے بے شمار گر جانتے ہیں۔ حکومت پر اعتماد ہو اور ملک سے زکوٰۃ کی تمام رقم ایمانداری سے وصول کرکے دیانتداری کے ساتھ خرچ کرنے کا یقینی اہتمام کیا جائے تو برسوں میں نہیں، چند مہینوں میں ملک و قوم کے دلدر دور ہو سکتے ہیں۔ مخیر پاکستانی لوگ زکوٰۃ کے علاوہ خیرات و صدقات کی مد میں بھی دل کھول کر رقم دیتے ہیں۔ زکوٰۃ صرف مسلمانوں پر خرچ ہو سکتی ہے تو خیرات اور صدقات کے پیسے غیر مسلم اہل وطن کے مسائل حل کرنے کے کام آسکتے ہیں۔ جہانگیر ترین، علیم خان، عمران خان کی بہن علیمہ، خود وزیر اعظم اور ان کے کئی ساتھی اس قدر دولت مند ہیں کہ اگر صرف وہی ایثار کا مظاہرہ کریں تو پاکستانی قوم کی قسمت بدل سکتی ہے۔ شریف اور زرداری خاندانوں سے لوٹ کا مال واپس لینے میں یہی رکاوٹ ہے کہ اس کے نتیجے میں تحریک انصاف کے رہنما بھی زد میں آئیں گے، جو عمران خان اور ان کے اعوان و انصار کسی طور بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ پاکستانی قوم قرضوں اور امداد کے بغیر بھی ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے ہمیشہ تیار رہتی ہے، لیکن حکمرانوں کا اب بھی یہ حال ہے کہ انہیں قومی غیرت و حمیت کی ذرا فکر ہے نہ پروا۔ وہ اپنے سروں کو زیرِ بار منتِ درباں کئے ہوئے کبھی اِس در پر پڑے ہیں تو کبھی اُس در پر۔ مرزا غالب نے کم و بیش ڈیڑھ سو سال پہلے غالباً ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا تھا: ؎
دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کئے ہوئے
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More