سیکولر انتہا پسندی

0

چار برس قبل فرانس کی بنیادی و اعلیٰ تعلیم و تحقیق کی وفاقی وزیر محترمہ نزہت ولید ابوالقاسم نے کہا تھا کہ سیکولر سکھاشاہی مسلم بچوں کو انتہاپسندی کی طرف مائل کر رہی ہے۔ محترمہ نے اس کے لئے Militant Secularity کا لفظ استعمال کیا، جس کا لغوی ترجمہ تو سیکولر شدت پسندی ہوگا، لیکن ہمیں پاکستان میں لبرل طبقے کی دھونس و دھاندلی کو دیکھ کر سکھا شاہی کا لفظ زیادہ مناست لگتا ہے۔ پاکستان میں اتاترک کے ظہور کا انتظار کرتے ایک نامی گرامی کالم نگار کا خیال ہے کہ اگر اس بد نصیب قوم کی قسمت میں اتاترک نہیں لکھا تو مہاراجہ رنجیت سنگھ ہی آجائے کہ کم ازکم اعضاء کی شاعری اور دختر انگور کی رعنائیوں سے ملائیت کی خشکی تو دور ہو جائے گی۔ فرانسیسی وزیر تعلیم نے ایسی ہی سیکولر سکھا شاہی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سینتیس سالہ مراکش نژاد وزیر تعلیم فرانس کی حکمراں جماعت سوشلسٹ پارٹی کی ایک سرگرم رکن اور تیزی سے ابھرتی رہنما ہیں۔ موصوفہ پیرس کے انسٹیٹیوٹ برائے علوم سیاسیات کی فارغ التحصیل ہیں۔ یہ ادارہ سیاسی و سماجی امور کی تعلیم کے لئے ساری دنیا میں مشہور ہے۔ نزہت کو فرانس کی پہلی خاتون وزیرتعلیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس سے پہلے وہ خواتین کے حقوق، امورِ نوجوانان اور بلدیات کی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ فرانس کی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے نزہت نے کہا کہ اسکولوں میں اسکارف اور کپاہ (یہودی ٹوپی) پر غیر ضروری پابندیوں سے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلم بچی یہ دیکھتی ہے کہ اسکول چھوڑنے کیلئے آنے والی اس کی اسکارف پوش ماں محض اس لئے اس کی کلاس تک نہیں آسکتی کہ ماں نے اپنا سر ڈھکا ہوا ہے تو اس نوخیز طالبہ کے دل میں نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ وزیرتعلیم نے کہا کہ مذہی شعائر اور علامات پرپابندی سے برداشت اور ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکتی اور سیکولر شدت پسندی مسلمانوں میں احساس محرومی پیدا کر رہا ہے۔ نزہت نے کہا کہ گاڑی چلانے کیلئے حجاب اتارنے کی شرظ لگا کر ہم ان ملکوں کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں جہاں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ہی نہیں۔ یہ ایک قسم کا امتیازی سلوک ہے جس کا مہذب سیکولر معاشرے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر انتہا پسندی معاشرے میں تنائو اور ہیجان پیدا کر رہی ہے۔ اسکولوں کے تفریحی دوروں میں باحجاب مائیں اپنے بچوں کے ساتھ نہیں جاسکتیں، جس کی وجہ سے نوخیز بچوں کے ذہن میں سیکولرازم کے خلاف جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔ نزہت کے خیال میں غیر ضروری سختی مسئلے کا حل نہیں اور وہ شدت پسند سیکولر فکر کو فرانسیسی اقدار کے مطابق بنانے کیلئے اسکول اصلاحات کے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لباس کے انتخاب میں ریاست کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہئے اور مجوزہ اصلاحات کا مقصد اسکولوں اور والدین کی شراکت داری کو مربوط و مستحکم بنانا ہے۔ اسکولوں میں اپنے طرز زندگی کی غیر ضروری تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی، تاہم اس نئے بندوبست میں وہ تمام مکتبہ فکر کی باوقار اور سرگرم شرکت کو یقینی بنانا چاہتی ہیں۔ نزہت کی تجویز کردہ اسکول اصلاحات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ تاہم امکان ہے کہ اسکولوں میں اسکارف، یہودی ٹوپی اور صلیب کے لاکٹوں پر پابندی کا خاتمہ تجویز کیا جائے گا۔ تاہم فرانس کے پڑوسی فرانس کے نسل پرست و متعصب رہنما گیرٹ وائلڈر نے نزہت کے اس بیان کو یورپی تہذیب کیلئے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ گیرٹ وائلڈر ایک عرصے سے مراکشی مسلمانوں کے خلاف زہریلی مہم چلارہا ہے۔ واضح رہے کہ یورپ میں افریقی نژاد مسلمانوں کو مور کہا جاتا ہے اور ناخواندہ گیرٹ ہر افریقی مسلمان کو مراکشی گردانتا ہے۔
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More