معارف القرآن

0

معارف و مسائل
اموال بنو نصیر کی تقسیم کا واقعہ:
صورت یہ تھی کہ جب اس آیت میں اموال فئی کی تقسیم مہاجرین و انصار وغیرہ میں کرنے کا اختیار نبی کریمؐ کو دیدیا گیا، یہ وہ وقت تھا کہ مہاجرین کے پاس نہ اپنا کوئی مکان تھا، نہ جائیداد۔ وہ حضرات انصارؓ کے مکانوں میں رہتے تھے اور انہی کی جائیدادوں میں محنت مزدوری کر کے گزارہ کرتے تھے، جب بنو نضیر اور بنو قینقاع کے اموال بطور فئی کے مسلمانوں کو حاصل ہوئے تو رسول اکرمؐ نے انصار مدینہ کے سردار حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ کو بلا کر فرمایا کہ اپنی قوم انصار کو میرے پاس بلادو۔
انہوں نے پوچھا کہ حضور! انصار کے اپنے قبیلہ خزرج کو یا سب انصار کو؟ آپؐ نے فرمایا کہ سب کو ہی بلانا ہے۔ یہ حضرات جمع ہوگئے تو رسول اقدسؐ نے ایک خطبہ دیا، جس میں حمدو صلوٰۃ کے بعد انصار مدینہ کی اس بات پر مدح وثنا فرمائی کہ انہوں نے جو سلوک اپنے مہاجر بھائیوں کے ساتھ کیا، وہ بڑے عزم و ہمت کا کام تھا۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے بنو نضیر کے اموال آپ لوگوں کو دیدیئے ہیں، اگر چاہیں تو میں ان اموال کو مہاجرین و انصار سب میں تقسیم کردوں اور مہاجرین بدستور سابق آپ کے مکانوں میں رہائش پذیر رہیں اور آپ چاہیں تو ایسا کیا جائے کہ یہ بے گھر و بے روزگار لوگ ہیں۔ یہ اموال صرف ان میں تقسیم کردیئے جائیں اور یہ لوگ آپ کے گھروں کو چھوڑ کر الگ اپنے اپنے گھر بسالیں؟(جاری ہے)
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More