سی پیک میں سعودی شرکت، بھارت کی کم ظرفی

وزیراعظم عمران خان کے دورئہ سعودی عرب کے کئی پہلو قابل ذکر اور غور طلب ہیں۔ دیگر مسلمانان عالم کی طرح پاکستان کے مسلمان بھی اکثر قلب و روح کی بالیدگی کیلئے حرمین شریفین جاتے ہیں۔ کعبہ شریف میں جا کر عمرہ ادا کرنا ہر مسلمان کی دلی آرزو ہوتی ہے۔ تاہم پاکستانی حکمرانوں کے نزدیک اس سعادت کے علاوہ پاک سعودی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا بھی دورئہ سعودی عرب کا ایک اہم مقصد ہوتا ہے۔ نبی اکرمؐ کے روضہ اقدس پر حاضری کے موقع پر مسجد نبویؐ میں فرض نمازوں اور نوافل کی ادائیگی کے علاوہ خاتم النبیینؐ کے حضور درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنا عام مسلمانوں کی طرح مقتدر شخصیات کی بھی دلی آرزو ہوتی ہے۔ مسلم ممالک میں سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے، جس نے مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کی مدد طلبی کا انتظار نہیں کیا، بلکہ ازخود اپنی ذمے داری محسوس کر کے فوراً اور زیادہ سے زیادہ امداد پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ان تعلقات میں گہرائی اور گیرائی اس وقت زیادہ محسوس کی گئی، جب پاکستان کے نااہل، مفاد پرست اور اقتدار کی ہوس میں مبتلا حکمرانوں نے بھارت، امریکا، روس اور بنگالی باغیوں کے ساتھ سازش کرکے آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کو پاکستان سے کاٹ کر علیحدہ کیا اور بنگلہ دیش بنوایا۔ روایات کے مطابق اس سانحے کے موقع پر سعودی فرماں روا شاہ فیصل بن عبد العزیز نے خانہ کعبہ میں جا کر مسلمانوں کے اس بڑے المیے پر شدید دکھ اور صدمے کا اظہار کیا اور پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے۔ پھر جب 1974ء میں جکارتہ کے بعد لاہور میں دوسری مسلم سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی تو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے مسلم زعما کے قیام و طعام کا اس انداز سے اہتمام کیا کہ شراب و شباب اور ناچ گانے کے پروگرام بھی اس میں شامل رہے۔ شاہ فیصل کے ذہن میں پاکستان کے ایک عظیم الشان مسلم ملک ہونے کا تصور تھا، پاکستانی حکومت کی ان حرکات ناپسندیدہ کا شاہ فیصل کو علم ہوا تو سقوط مشرقی پاکستان کے بعد انہیں دوسرا زبردست دھچکا پہنچا اور وہ مسلم سربراہ کانفرنس میں آخر تک شریک رہنے کے بجائے درمیان ہی میں واپس چلے گئے۔ جنرل ضیاء الحق، میاں نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف سمیت پاکستان کے اکثر حکمرانوں کا سعودی عرب میں ہمیشہ شاندار خیر مقدم کیا جاتا رہا، کیونکہ وہ پاکستان کو اپنا برادر مسلم ملک اور گہرا دوست تصور کرتے ہیں۔ ان کا تعلق حکمرانوں سے زیادہ پاکستانی عوام سے رہتا ہے، وہ حکومتی زعما کو پاکستانی عوام کا نمائندہ سمجھ کر ان کی عزت اور ان سے محبت کرتے ہیں۔ اہل وطن کو اچھی طرح یاد ہے کہ ایک موقع پر شدید سیلاب اور بارشوں کے باعث پاکستان زبردست تباہی سے دوچار ہوا تو امریکی سفیر نے سیلاب زدگان کیلئے امداد کا اعلان کرتے ہوئے طعنہ زنی کی کہ کہاں ہے پاکستان کا ہمدرد و خیر خواہ سعودی عرب، دیکھو ہم سب سے پہلے حق دوستی نباہ رہے ہیں تو پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سعودی سفیر کی تصویر شائع و نشر کر دی، جس میں وہ گھٹنوں گھٹنوں پانی میں کھڑے متاثرہ خاندانوں کو خود امداد پہنچاتے ہوئے دکھائی دیئے۔ میاں نواز شریف پر سعودی حکمرانوں کی بلاشبہ بڑی نوازشات رہیں، لیکن ان کی معزولی کے بعد بھی سعودی حکومت کا پاکستان کے ساتھ گرم جوشی کا وہی رویہ برقرار رہا۔
گزشتہ دنوں عمران خان پاکستانی حکمرانوں کی دیرینہ روایت کے مطابق اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں سعودی عرب گئے تو ان کا بھی پرتپاک استقبال کیا گیا اور ان کیلئے کعبہ شریف اور روضہ رسولؐ کے دروازے کھول کر اندر جانے کا موقع فراہم کیا گیا۔ دینی نقطہ نظر سے اس کی جو بھی اہمیت ہو، لیکن اس سے سعودیوں کی پاکستان سے گہری محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورئہ سعودی عرب کے فیوض و برکات اﷲ کرے کہ ان کے اور ساتھیوں کی آئندہ زندگی میں نظر آئیں۔ تاہم ریاستی اور سیاسی طور پر عمران خان کے دورے میں جہاں سعودی عرب نے پاکستان کے بنیادی مسائل حل کرنے میں حسب سابق فراخدلی کے ساتھ امداد اور تعاون کا یقین دلایا، وہیں پاک و چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو تیسرا شریک بنانے کی پیشکش کو بڑی اہمیت حاصل ہے، پاکستان نے یہ پیشکش چینی حکومت کی مشاورت اور اجازت کے بعد کی، جس سے اس کی اہمیت کئی چند ہو گئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیراعظم عمران خان کے دورئہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سعودی عرب سی پیک منصوبے میں پاکستان اور چین کا تیسرا پارٹنر ہوگا۔ ان کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی تجویز پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ایک سعودی وفد پاکستان آئے گا، جس میں وزیر خزانہ اور وزیر توانائی شامل ہوں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تعلقات میں کسی قدر سرد مہری نظر آ رہی تھی، لیکن اب امارات سے بھی ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔ سعودی عرب نے پاکستان کیلئے دس ارب ڈالر کے اقتصادی پیکیج اور گوادر میں آئل سٹی بنانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ سی پیک کے تحت آئل سٹی بنانا چین نے اپنے ذمے لیا تھا، لیکن پاکستان چینی حکومت کو اعتماد میں لینے کے بعد اس سلسلے میں سعودی عرب سے معاہدہ کر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات بھی گوادر سمیت مختلف منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے۔ اس کے علاوہ امارات نے کراچی میں پانی کے منصوبوں میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ نئی پاکستانی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آئندہ ہونے والے معاہدے قرض کے بجائے ہاہمی شراکت داری کی بنیاد پر ہوں گے، تاکہ تمام شریک ممالک کی توجہ اور دلچسپی برقرار رہے۔ واضح رہے کہ بھارت نے ایران کے ساتھ مل کر ایرانی بندرگاہ چابہار پر بڑے منصوبے شروع کئے ہیں، تاکہ گوادر سے سامان کی ترسیل پر اثر انداز ہوا جا سکے۔ چابہار کی یہ بندرگاہ گوادر سے صرف ستر کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، تاہم پاکستان نے فراخدلی اور توسیع پسندی کے تحت اقتصادی راہدری میں سعودی عرب کو شامل کر کے ایک طرف مزید سرمایہ کاری کا راستہ کھولا ہے تو دوسری جانب صرف چین پر انحصار کرنے کی پالیسی سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق گوادر سے چین کے صوبے سنکیانگ تک تیل کی ایک نئی پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ زیر غور ہے، جس کی یومیہ ترسیلی صلاحیت دس لاکھ بیرل ہو گی۔ ادھر پاکستان نے بھی سعودی مملکت بالخصوص حرمین شریفین کے تحفظ و سلامتی کیلئے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ بھارت اگر سی پیک کی مخالفت اور پاکستان دشمنی سے باز آ جائے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر عائد تجارتی پابندیاں ختم کر دیں تو ان کے درمیان تجارت کی موجودہ حد دو ارب ڈالر سے بڑھ کر سینتیس ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے، لیکن ایسے معاملات میں بھارت کی کم ظرفی ہمیشہ آڑے آتی ہے کہ خواہ اسے خود بھی کوئی فائدہ نہ ہو، لیکن پاکستان کو ہر طرح سے نقصان پہنچایا جائے۔ ٭
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment