دو جمال الدین نام کے اثرات

یہ بات کہ نام کا اثر شخصیت پر ہوتا ہے، اس پر ظن غالب کے درجے میں بزرگوں کا اتفاق ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ نام کا اثر صرف جسم اور چہرے بشرے پر ہوتا ہے یا اس کے اعمال و اخلاق پر بھی ہوتا ہے؟ تجربہ تو یہ ہے کہ دونوں پر اثر ہوتا ہے۔ بشرطیکہ نام رکھنے کے جو آداب ہیں، ان کو ملحوظ رکھا جائے۔ مثلاً یہ نہ ہو کہ بچہ تو کالا کلوٹا ہے۔ اس کا نام نور، انوار، سورج یا چاند رکھ دیا جائے۔ شیخ سعدیؒ کا مشہور مصرعہ ہے:
برعکس نہند نامِ زنگی کافور یعنی کسی حبشی کا نام کافور رکھ دیا جائے۔ نام میں چہرے بشرے میں مناسبت ہونا ضروری ہے۔ نام رکھنے کا دوسرا ادب یہ ہے کہ یا تو اس کے معنیٰ اچھے ہوں یا صحابہؓ و تابعینؒ اور بزرگوں کے نام پر رکھا جائے۔ مشہور ہے کہ اگر حمل کے دوران رسول اقدسؐ کے نام پاک ’’محمد‘‘ کا نام رکھا جائے تو اکثر لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اس کا اکثر تجربہ بھی ہوا ہے۔
آج ایسے دو اشخاص کا ذکر ہے، جن کے نام ایک ہیں، مگر اخلاق و کردار ایک دوسرے سے اتنے مختلف ہیں کہ پڑھنے والا حیرت میں رہ جاتا ہے۔ یہ واقعہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ایک مجلس میں کسی شخص نے عرض کیا تھا کہ ایک مقام پر، مسجد کی تعمیر کے متعلق ہندوؤں اور مسلمانوں میں جھگڑا ہو رہا ہے۔ ایک مسلمان جس کا نام جمال الدین ہے، وہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر مسجد کے بننے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ کہتا ہے کہ میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں گا اور ہندوؤں سے کہتا ہے کہ مسجد مت بننے دو۔ میری بات تو جبھی رہے گی۔
حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ وہ جمال الدین نہیں، وہ تو زوال الدین ہے۔ کس قدر دلیری اور گستاخی کی بات ہے کہ مسلمان ہو کر مسجد کے معاملے میں مخالفت کرتا ہے۔ ایسی بات سن کر بھی ڈر لگتا ہے۔ حق سبحانہ تعالیٰ کے قہر سے ڈرنا چاہیے۔ ان صاحب نے عرض کیا کہ وہ ایک بڑے بزرگ کے مرید ہیں۔ فرمایا: اس رسمی پیری مریدی سے اصلاح نہیں ہوتی۔ لوگ بزرگوں کو بھی بدنام کرتے ہیں۔ (اش شخص نے دو بڑے گناہ کئے۔ ایک تو جس شیخ سے مرید ہے، ان کی بدنامی کا سبب بنا۔ دوسرے مسجد بننے میں رکاوٹ بن کر اپنا ایمان کھوٹا کیا۔ راقم)
اس پر حضرت تھانویؒ نے ایک واقعہ بیان فرمایا:
فرمایا کہ جمال الدین پر یاد آیا۔ بھوپال میں منشی جمال الدین وزیر ریاست تھے۔ اب تو وزارت کا منصب برائے نام ہی رہ گیا ہے۔ اس زمانے میں وزیر ہی سلطنت کا مالک ہوتا تھا۔ اس ریاست کی ملکہ نے ان سے نکاح بھی کر لیا تھا۔ اس وجہ سے ان کا اعزاز و اکرام بہت بڑھ گیا تھا۔ عالم تھے۔ مگر منشی جمال الدین کے نام سے مشہور تھے۔ منشی کا یہ لقب اس زمانے میں بڑی عزت والا لقب تھا۔ (آج کل تو یہ لفظ نچلے درجے کے شخص کے لئے مخصوص ہے۔ بلکہ اب تو یہ لفظ مستعمل ہی نہیں رہا۔ لغت میں قید ہو گیا ہے۔ ورنہ منشی بادشاہوں کے خطوط اور احکامات لکھنے والوں کو کہتے تھے۔ راقم)
ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ مسجد میں لوگوں نے ان کو نماز پڑھانے کے لیے مصلے پر کھڑا کر دیا۔ باوجود اتنے بڑے اور اہم عہدے پر ہونے کے ان میں حق پرستی بہت ہی بڑھتی ہوئی تھی اور جن رئیسہ سے ان کا نکاح ہوا تھا، وہ ریاست کے انتظامی امور کی وجہ سے پردہ نہیں کرتی تھی۔ یہ مصلے پر کھڑے تھے کہ پیچھے سے ایک پٹھان مسافر آگے بڑھا اور منشی جمال الدین کا ہاتھ پکڑ کر مصلے پر سے کھینچ لیا اور بولا: تمہاری بیوی پردہ نہیں کرتی، تم کو نماز پڑھانے کا کوئی حق نہیں، کوئی اور نماز پڑھائے۔ اب وزیر صاحب کی جگہ پر کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ امامت کرے۔ ان کی ناگواری کا اندیشہ تھا۔ جب کوئی آگے نہ بڑھا تو وہ پٹھان مولوی صاحب آگے بڑھے اور تکبیر کہہ کر نیت باندھ لی۔
وزیر صاحب بے چارے کچھ نہیں بولے۔ ان صاحب کے پیچھے پوری نماز پڑھی اور نماز کے بعد سیدھے وہ اس رئیسہ کے پاس پہنچے۔ وہ اس وقت ایک اہم میٹنگ میں مصروف تھی۔ ارکان ریاست موجود تھے۔ یہ اس اجلاس میں پہنچ گئے اور بلند آواز سے بیوی کو مخاطب کیا اور کہا: بیگم! تمہاری بے پردگی کی وجہ سے آج مسجد میں یہ واقعہ پیش آیا ہے یا تو تم اسی وقت وعدہ کرو کہ تم پردے میں بیٹھو گی۔ اگر یہ وعدہ نہیں کرتیں تو تم کو تین طلاق۔ حق پرستی کا کیا ٹھکانہ ہے کہ برسر اجلاس صاف پورا واقعہ بھی کہہ دیا اور طلاق بھی دے دی۔ اپنی عزت کی بھی پروا نہ کی اور نہ ریاست کی، نہ ملکہ کی ناگواری کی پروا کی۔ اگرچہ وہ رئیسہ تھی۔ مگر شوہر کی قدردان تھی اور پھر آخر بیوی تھی۔ (پردہ میں بیٹھ گئی ہوگی)
ان سطور کو پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ وہ کیسا خیر کا زمانہ تھا کہ حکمران مردوں اور عورتوں میں کس درجہ حق پرستی تھی۔ ان جمال الدین صاحب نے بھی کمال کیا کہ پٹھان کی امامت میں نماز پڑھنے میں اپنی خفت اور شرمساری کا ذرا خیال نہیں کیا۔ پھر اپنی بیوی کے بھرے اجلاس میں اپنی اس خفت کا واقعہ سب کے سامنے بیان کر دیا اور پھر تین طلاقیں دیتے وقت کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔ آخر یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ ان کی بیوی ریاست کی حکمران تھی۔ وہ ان کو اس منصب سے معزول کر سکتی تھی۔ جس کے نتیجے میں ان کو جیل بھی ہو سکتی تھی۔ مگر چونکہ قلب میں دین کی عظمت تھی، اس لئے کسی بات کی پروا نہیں کی۔
اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے ان ہی جمال الدین صاحب کا ایک اور واقعہ بیان فرمایا کہ ان کے یہاں کوئی تقریب تھی۔ اس میں بڑے بڑے لوگ مدعو تھے۔ اہل محفل کے لیے کھانا رکھا جا رہا تھا۔ اتفاق سے اسی وقت ایک بھنگی اندر آیا اور اس نے عرض کیا کہ میاں جی سلام، میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ وزیر صاحب نے یہ سنا تو سب کام چھوڑ چھاڑ کے اسے مسلمان کیا اور اپنے ایک خدمت گار کو حکم دیا کہ ان کو حمام میں لے جا کر غسل کراؤ اور ہمارے کپڑے کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنا کر لاؤ! تمام حاضرین حیرت میں تھے کہ ایک بھنگی کا اتنا اکرام!
خادم نے حکم کی تعمیل کی اور اس کو نئے جوڑے میں لا کر کھڑا کر دیا اور فرمایا: اس کو دسترخوان پر بٹھاؤ۔ اس حکم کو بڑے لوگوں نے سنا تو لوگوں کو بہت برا لگا۔ ان کے بدلے ہوئے تیور دیکھ کر منشی صاحب نے کہا: آپ حضرات پریشان نہ ہوں۔ اس کو میں آپ کے ساتھ کھانا نہیں کھلاؤں گا۔ اس سعادت کو میں خود حاصل کروں گا۔ یہ شخص اس وقت اتنا پاک صاف اور گناہوں سے پاک ہے اور اس محفل میں کوئی بھی ایسا پاک صاف نہیں ہے۔ اس کے تمام گناہ معاف ہو چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ آپ کے مقدر میں یہ سعادت نہیں ہے۔ غرضیکہ انہوں نے اس نو مسلم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ حضرتؒ نے فرمایا: کس قدر بے نفسی اور حق پرستی کا نمونہ ہے۔ عجیب بات ہے کہ دونوں کا نام جمال الدین تھا، مگر دونوں میں مشرق و مغرب کا اختلاف تھا۔ یہ ایسا ہی ہے، جیسے بارش کا پانی تو صاف پاک ہوتا ہے۔ مگر بنجر زمین پر پڑے تو کانٹے اگتے ہیں، اچھی زمین سے پھل پھول اگتے ہیں۔
اس کے بعد حضرت تھانویؒ نے اپنا ایک واقعہ سنایا۔ فرمایا کہ ایک مرتبہ ساری عمر میں مجھے ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ میں کالپی گیا تھا۔ وہاں میرا جانا ایک جلسے میں شرکت کے لئے ہوا تھا۔ وہاں کے لوگوں میں ذات پات کا بہت خیال تھا۔ ایک شخص بہت صاف ستھرا لباس پہنے ہوئے جامع مسجد میں نماز پڑھنے آیا۔ بعض لوگوں نے بتایا کہ یہ شخص نومسلم ہے۔ پہلے بھنگی تھا۔ اب مسلمان ہوا تو یہاں کے چودھری اس کو ساتھ کھلانا تو بڑی بات ہے، اس کی چھوئی ہوئی چیز کو بھی قبول نہیں کرتے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اس موقع پر ان لوگوں کو سمجھا دو کہ مسلمان ہو جانے کے بعد ایسا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں اس کی دل شکنی ہوگی۔
فرمایا میں نے اپنے دل میں خیال کیا کہ اس میں دل شکنی نہیں۔ اس میں تو دین شکنی کا بھی اندیشہ ہے۔ مگر صرف زبانی سمجھانے سے کام نہیں چلے گا۔ یہ پرانی وضع کے لوگ ہیں، زبانی سمجھانے کا اثر قبول نہیں کریں گے۔ میں نے کہا بہت اچھا! میں سمجھاتا ہوں۔ ایک لوٹے میں پانی منگاؤ! وہ لوگ پانی لے آئے۔ میں نے اس نو مسلم سے کہا: اس کی ٹونٹی سے منہ لگا کر پانی پیئو! اس نے اسی طرح پانی پیا۔ پھر میں اس کے ہاتھ سے لوٹا کر پانی پیا۔ پھر میں مجمع کی طرف مخاطب ہو کر کہا: تم لوگ بھی پیئو! سب نے طوعاً و کرہاً وہ پانی پیا۔ پھر میں نے ان لوگوں سے کہا کہ دیکھو، اب اس نو مسلم سے پرہیز نہ کرنا۔ کہنے لگے: اجی! اب پرہیز کرنے کا ہمارا منہ ہی کیا رہا۔ آپ نے تو اس طریقے سے ہمارا دھرم ہی لے لیا۔ اب تو ہم اس کو ساتھ کھلا پلا بھی لیا کریں گے۔
فرمایا: خدا مجھے معاف کرے۔ اندر سے جی رکتا تھا اور یہ بات اسی کے ساتھ خاص نہیں۔ میری طبیعت ہی ایسی ہے کہ کسی کا بچا ہوا پانی کھانا مجھ سے نہیں کھایا جاتا۔ میں نے کبھی بزرگوں کا بھی جھوٹا پانی کھانا نہیں کھایا۔ مگر پھر بھی حق تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ ان کی برکت سے محروم نہیں رہا۔ اگر یہ طبیعت کی لطافت یا ضعف ہے تو معاف ہے۔ پھر فرمایا: نفس بھی عجیب چیز ہے۔ خود ہی ایک خوبصورت عنوان تراش کر بتلا دیا۔ (ملفوظات حکیم الامت۔ جلد۔1۔ ص 45)
قارئین! کسی مسلمان کے سامنے کا بچے ہوئے پانی یا کھانے کو ہم ’’جھوٹا‘‘ کہتے ہیں۔ مسلمان کا جھوٹا، جھوٹا نہیں ہوتا۔ یہ تصور ہمارے یہاں ہندوؤں سے آیا ہے۔ مسلمان کے بچے ہوئے کھانے اور پانی پینے میں برکت ہوتی ہے۔ البتہ بعض لوگ اپنی طبیعت کی کمزوری کی وجہ سے پرہیز کرتے ہیں۔ اگرچہ اس کو جھوٹا نہیں سمجھتے یا بیمار کے بچے ہوئے سے پرہیز کرتے ہیں تو شاید معاف ہو۔
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment