قائد آباد بم دھماکے میں 2 جاںبحق-10 زخمی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)قائد آباد ڈپٹی کمشنر آفس کے قریب سڑک کنارے لگےلنڈا بازار میں ٹھیلوں کے درمیان رکھا بم جمعہ کی شب زور دار دھماکے سے پھٹنے سے2 نو عمر لڑکے جاں بحق جبکہ10افراد زخمی ہوگئے۔3زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ دھماکے کی آواز گرین ٹاؤن تک سنی گئی ۔دھماکے کے ساتھ ہی علاقے کی بجلی بند ہو گئی جبکہ اس کی شدت سے قریبی عمارتوں اور سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔متعدد ٹھیلوں کے پرخچے اڑگئے اور ان پر رکھے کپڑے دور دور تک جا گر ے۔دھماکے کے ساتھ ہی علاقے کی بجلی بند ہوگئی، واقعہ کی اطلاع پر پولیس، رینجرز اور قانون نافذکرنے والے اداروں اور فلاحی اداروں کے رضاکار موقع پر پہنچ گئے۔پولیس و رینجرز نے جگہ سیل کرکے لوگوں کو دھماکے کے مقام پر جمع ہونے سے روکا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بلا لیا جس نے ٹفن میں چھپایا گیا ایک اوربم برآمد کر کے ناکارہ بنا دیا۔ دہشت گردوں نے دوسرا بم لوگوں کے جمع ہونے پر اڑانا تھا۔وزیر اعلی سندھ ،گورنر اور آئی جی سندھ نے پولیس حکام سے واقعے کی فوری تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو بہتر علاج معالجہ فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق قائد آباد پل کے قریب ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے سڑک کے کنارے لگے سردیوں کے پرانے کپڑوں ،جرسیوں اور جیکٹیں فروخت کرنے والے ٹھیلوں کے قریب رکھا بم زور دھماکے کی وجہ سے رات 10 بج کر 45 منٹ پر پھٹ گیا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں و سڑک پر رواں بیشتر گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کے مقام کے قریب لگے ٹھیلے کے پرخچے اڑ گئےاور اس پر کپڑے سڑک پر دور تک پھیل گئے ۔ دھماکے کے جائے وقوعہ پر گڑھا بن گیا اور علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور لوگ جان بچانے کیلئے جدھر منہ تھا ، اسی کی جانب بھاگ کھڑے ہوئے۔ دھماکے کے وقت علاقے کی بجلی بھی منقطع ہو گئی تاہم اسے فوری طورپر بحال کر دیا گیا۔دھماکے کی اطلاع ملتے پر پولیس، رینجرز اور قانون نافذکرنے والے اداروں ، فلاحی اداروں کے رضاکاروں کی بڑی تعداد ایمبولینس کے ہمراہ موقع پرپہنچے ۔ امدادی کارکنوں نے جائے وقوعہ پر خون میں لت پت پڑے زخمیوں کو اٹھاکر پہلے قریبی اور پھر جناح اسپتال منتقل کیا۔پولیس اور رینجرز نے جائے وقوعہ سیل کرکے لوگوں کو دور کیا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کرلیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پرپہنچ کر شواہد اکٹھے کیے۔ بی ڈی ایس عملے نے موقع پر ہی ٹفن میں چھپایا گیا ایک اور بم بھی برآمد کر کے ناکارہ بنا دیا ۔ اس موقع پر بی ڈی ایس عملے نے ایک ٹھیلے میں چھپائے گئے ٹفن کو ایک رسی کے ذریعے اپنی جانب کھینچا ۔ اس دوران پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے قریب جانے سے بھی گریز کیا تاہم ٹفن میں رکھا بم نکال کر ناکارہ بنا دیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے چھپایا گیا بم لوگوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکاروں کے جمع ہونے پر اڑایا جانا تھا تاہم بروقت کارروائی سے مزید ہلاکتوں کا خدشہ زائل ہو گیا ۔ بی ڈی ایس حکام کے مطابق اڑائے گئے بم میں 550 گرام تک دھماکا خیز مواد استعال کیا گیا جبکہ ناکارہ بنائے گئے بم کیلئے 400 سے 500 گرام دھماکہ خیز مواد موجود تھا ۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا مزید کہنا ہے کہ دونوں بم آئی ای ڈی سےمنسلک کیا گیا تھا، جبکہ قائد آباد پل کے قریب بم پہلے سے پلانٹ کیا گیا تھا۔ کراچی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی امیر شیخ نے دھماکے میں 2 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد قائد آباد پہنچنے والے ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز مواد زمین میں نصب کیا گیا تھا تاہم بم کی نوعیت کے حوالے سے بم ڈسپوزل اسکواڈ اور دیگر اداروں کے حکام نے شواہد جمع کرلیے ہیں جن کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد صحیح صورتحال سامنے آئے گی۔ دھماکے کی تمام پہلوؤں سے اس کی تفتیش کررہے ہیں کہ دہشت گردی کے لئے قائد آباد کے مقام کو چنے جانے کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما تھے۔ دیگر تفتیشی اداروں کے حکام کا دعویٰ تھا کہ دھماکہ خیز مواد ٹھیلے پر تھا ،دہشت گردوں کا ہدف کون تھا اور ان کے کیا مقاصد تھے ،اس کی معلومات جمع کی جارہی ہیں۔ جناح پوسٹ گریجویٹ اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے رابطے پر ‘‘امت ’’کو بتایا کہ رات گئے تک جناح اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں 8 زخمی لائے گئے ۔ان میں سے3 کی حالت تشویشناک ہے ۔ انہوں نےدھماکے میں2 افراد کی ہلاکت اور 10 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے ۔اسپتال ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان کی شناخت16 سالہ شاہد پپو ولد مشتاق اور 15 سالہ علی حسن ولد ریاض کے نام سے ہوئی ہے۔ علی حسن 7بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ متوفی کے والد ریاض نے ‘‘امت ’’کو بتایا کہ ان کا بیٹا قائد آباد پر کئی برس سے پھلوں کا ٹھیلا لگاتا تھا ۔جاں بحق پپو بھی اسی مقام پر فروٹ چاٹ کا ٹھیلہ لگاتا تھا۔ریسکیو حکام کے مطابق جناح اسپتال پہنچنے والے زخمیوں کی شناخت 30 سالہ رشید ولد رفیق، 36 سالہ مشتاق ولد بلال، 30 سالہ حق نواز ولد رمضان، 50 سالہ صدیق ولد داد، 30 سالہ اللہ دتہ ولد رضا، 34 سالہ ارسلان ولد طارق، 35 سالہ قمرعباس ولد حیات، 35 سالہ شہاب الدین، 30 سالہ رشید، 35 سالہ شعیب اور 30 سالہ فضل عباس کے ناموں سے ہوئی ہے ۔کراچی میں دھماکے پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر احمد شیخ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ صحت سندھ کو زخمیوں کو بہتر علاج فراہم کرنے کی ہدایت کی۔گورنرسندھ عمران اسماعیل نے بھی واقعے کا نوٹس لیا ہے ۔آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے دھماکے پر ایس ایس پی ملیرسے تفصیلی انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے ۔
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment