وزارت خزانہ کی صلاحیت؟

حکومت نے جنوری 2019ء کے وسط میں ضمنی بجٹ کے ذریعے ایک کھرب پچپن ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے اس سلسلے میں سمری تیار کر لی ہے، جس میں لوگوں پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی گاڑیوں پر درآمدی ٹیکس میں اضافے کی تجویز بھی منی بجٹ میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ نئے سال کی آمد پر منگل یکم جنوری سے بڑے ٹیکس چوروں کے خلاف مرحلہ وار کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کا خصوصی ریکوری یونٹ ٹیکس وصولی کے لیے آج (منگل) سے تحقیقات کا آغاز کرے گا۔ جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بھی یکساں کئے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت مختلف اشیا پر سیلز ٹیکس کی شرح یکساں نہیں ہے، یہ پانچ فیصد سے بائیس فیصد تک ہے۔ ایف بی آر کا اسپیشل ریکوری یونٹ بیس بڑے ٹیکس نادہندگان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرے گا، جس کے بعد ان بڑی مچھلیوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تیز رفتار بنیاد پر کارروائی کا آغاز کر کے ایک ماہ میں وصولی کی جائے گی۔ غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے اور ان کی چیخوں کو دھاڑوں میں بدلنے کے لیے تحریک انصاف کی حکومت مزید کیا اقدامات کرے گی؟ اس کا اندازہ اب تک کی کارروائی سے کیا جا سکتا ہے۔ تبدیلی کا حکومتی نعرہ اس حد تک کامیاب نظر آتا ہے کہ عوام کو موجودہ حکومت برابر فائدہ پہنچانے کے بجائے مہنگائی اور ٹیکسوں میں مسلسل اضافہ کر کے ان سے سانس لینے کا حق بھی چھین لینا چاہتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کہتے ہیں کہ تحریک انصاف اور اس کی حکومت میں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے وہ لوگ شامل ہیں جو لوٹ مار کے نظام کا حصہ رہے ہیں، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ انہوں نے شمولیت اختیار کر کے تحریک انصاف میں پہلے سے موجود لٹیروں کو تقویت بخشنے اور خود کو بچانے کی بھی کوشش کی ہے۔ اسی بنا پر حکومت مخالف جماعتوں کو شکایت ہے۔ احتساب کے نام پر صرف دو مذکورہ بڑی پارٹیوں کے خلاف اقدامات کئے جا رہے ہیں، جبکہ حکومتی پارٹی کے لوگ اب تک اعلیٰ سطح کی کارروائیوں سے بچے ہوئے ہیں۔ نئے ٹیکس درآمد شدہ گاڑیوں پر عائد کئے جائیں یا بڑے ٹیکس دہندگان پر۔ حکومت اگر یہ کہے کہ اس سے غریبوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تو یہ سراسر جھوٹ اور فریب ہے کیونکہ تیل بالآخر تلوں ہی سے نکالا جاتا ہے۔ وطن عزیز میں عوام کی حیثیت تلوں سے زیادہ کچھ نہیں، جبکہ نئے اور پرانے تیلی تنبولیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ جس کے پاس بے ایمانی، بددیانتی اور حرام سے کمائے گئے کچھ ٹکے آجائیں وہ کولہو لے کر اور اس میں عوامی تل ڈال کر پل پڑتا ہے۔ ایسے میں عوام پر کسی مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافے کا بوجھ نہ پڑنے کی بات ہمیشہ غلط ثابت ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت کا تو اول روز سے ریکارڈ یہی ہے کہ ان کے پاس جو کچھ بچا ہے، وہ بھی چھین لیا جائے۔
بڑے ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کا ابھی تو صرف فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے تحقیقات ہوں گی، جس کی مدت کا فی الحال کوئی تعین نہیں کیا گیا ہے، پھر حسب سابق وہی منظر دیکھنے کو ملے گا کہ نہ تو من تیل ہوگا نہ حکومت کی رادھا ناچے گی اور اسے ناچنے کی ضرورت بھی کیا ہے، وہ تو عوام کو تگنی کا ناچ نچانے میں لگی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر اور اس کی نگرانی میں ملک کے دو بدترین لٹیرے خاندانوں کے خلاف تحقیقات اور مقدمات کا کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آسکا اور ان کی لوٹی ہوئی رقوم سے قوم کو معمولی فائدہ بھی نہیں پہنچ سکا۔ الٹا انہیں مزید زیر بار کرنے کا سلسلہ جاری ہے تو موجودہ نااہل اور وعدوں کی پاسداری نہ کرنے والی حکومت کی تحقیقات کب شروع ہوں گی، کیسی ہوں گی اور کب ختم ہوں گی؟ پھر ان کے خلاف ’’مرحلہ وار‘‘ کارروائی کا آغاز کب اور کہاں سے ہوگا اور اس دوران کس کس کو بچانے کے لیے کیا کیا حربے اختیار کئے جائیں گے؟ ایف بی آر جیسے اداروں کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ صرف چھوٹی مچھلیوں کو جال میں پھنسانے پر مامور رہے ہیں۔ بڑی مچھلیوں کو پکڑنا ان کے بس اور دائرئہ اختیار سے باہر ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس کے مختلف اشیاء پر فرق کو دور کر کے اسے یکساں کرنے کی تجویز بھی خالی ازعلت نہیں۔ اہل وطن کو یاد ہے کہ ہر قومی اور صوبائی بجٹ کے موقع پر اشیاء کی قیمتوں کے استحکام کی بات کی جاتی ہے، جس کا مطلب نرخوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا نہیں، بلکہ ان میں اضافہ کر کے اسے مستحکم کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح جنرل سیلز ٹیکس میں اگر پانچ سے بائیس فیصد تک فرق ہے تو اسے یکساں کرنے کے نام پر خدشہ ہے کہ پانچ فیصد سیلز ٹیکس والی اشیاء کو بھی بائیس فیصد تک نہ پہنچا دیا جائے۔ ایف بی آر کے اسپیشل ریکوری یونٹ پر لوگوں کو فوراً پولیس، اینٹی کرپشن پولیس اور اس کے اوپر بھی نگرانی کرنے والے افراد اور ادارے یاد آ جاتے ہیں، جن کی شرح رشوت بڑھتے ہوئے ہر گریڈ کے ساتھ بڑھنا معمول اور پختہ روایت ہے۔ واضح رہے کہ قوم پر منی بجٹ مسلط کرنے کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے گزشتہ جمعہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ جنوری 2019ء کے وسط میں ایک جامع معاشی منصوبہ بھی پیش کیا جائے گا، جو تین سال کے لیے ہو گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ وضاحت بھی فرمائی کہ منی بجٹ اور جامع معاشی منصوبے کا آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کی کوششوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزیر خزانہ سے اگر اپنی وزارت نہیں سنبھلتی تو وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔ قوم کو مسلسل سہانے خواب دکھانے اور بہلاوے میں رکھنے کا زمانہ گزر چکا ہے۔ اسد عمر کی صلاحیتوں کا اندازہ تو لوگوں، بالخصوص ماہرین معاشیات کو اسی وقت ہو گیا تھا جب انہوں نے آئی ایم ایف کی جانب سے شرائط پیش کئے جانے سے قبل ہی یہ بچگانہ بیان جاری کیا کہ ہم اس سود خور عالمی ادارے کی بیشتر شرائط پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود وہاں سے قرضہ کیوں نہیں مل رہا؟ ٭
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment