ایف 16 کا فضائی معرکہ میں ذکر کیوں؟

نصرت مرزا
بھارت کے دو طیارے پاکستان کے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے گرائے، وہ اس سادگی سے بھارتی فضائیہ کو پاکستانی طیارے کے تعاقب کا موقع فراہم کیا تو دو ایف 17 تھنڈر طیاروں کی دوسری ٹیم روسی ساختہ مگ 21 اور سخوئی 30 گرانے کو تیار تھی، سو بھارتی فضائیہ کو عبرتناک سبق کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس فضائی معرکے میں روسی ساختہ مگ و سخوئی اور پاکستانی و چینی ساختہ ایف 17 تھنڈر کے درمیان مقابلہ تھا، جو ایف 17 تھنڈر نے جیت لیا۔ اس کی وجہ سے پاکستانی ساختہ طیاروں کی دھوم مچ گئی اور ایف 17 تھنڈر کی مارکیٹ قدر میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کے یہ معنی ہوئے کہ ایف 17 تھنڈر کی مانگ میں اضافہ ہوگا، یہ امریکہ اور روس، فرانس، سوئیڈن سب کے لئے خطرہ کا سگنل ہے کہ فضائی ہتھیاروں اور طیاروں کی مارکیٹ میں ایک نئے پیوپاری کا اضافہ ہوگیا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ اس نے اپنی برتری کو ثابت بھی کردیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ہتھیاروں کی مارکیٹ بڑی منافع بخش ہے، اس سے زیادہ منافع شاید ہی کسی اور انڈسٹری میں ہو، اس لئے امریکہ کی 90 فیصد انڈسٹری ملٹری ہائی ٹیک انڈسٹری کی ہے اور جو امریکہ کی خارجہ و دفاعی پالیسی چلاتی ہے، 27 فروری سے پہلے روس اور امریکہ کے ہتھیاروں کے درمیان مقابلہ ہوتا تھا اور اس میں امریکہ اپنی برتری ظاہر کرنے میں اصرار کرتا تھا یا پروپیگنڈا کرتا تھا، اگرچہ روس کا سخوئی طیارہ ایک بہترین لڑاکا طیارہ ہے، مگر بھارت نے اس کو اس بیدردی سے استعمال کیا ہے کہ وہ اپنی عمر سے زیادہ چل گیا ہے اور یہ درست ہے کہ چاہے وہ مگ ہو یا سخوئی وہ دونوں چلتے پھرتے تابوت ہیں۔ 1965ء کی جنگ میں جب بھارت پر پاکستان کی فضائی برتری قائم ہوگئی تو بھارتی امریکہ کے دربار میں پیش ہوئے اور امداد کے طالب ہوئے تو امریکی وزیردفاع نے کہا کہ جو کچھ آپ کے پاس لڑاکا طیارے ہیں، وہ سوائے لوہے کے راڈ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے، بھارت کو جدید طیارے خریدنے چاہئیں، اس میں امریکہ کی یہ خواہش تھی کہ بھارت روس سے جو اسلحہ خریدتا ہے اُس کو چھوڑ کر امریکی اسلحہ کا خریدار بن جائے، مگر ایسا نہیں ہوا، بھارت نے امریکہ سے مشاورت تو کی، لیکن اسلحہ روس سے خریدا، اِس کی وجہ تو یہ تھی کہ روس کی لابی بھارت میں بہت مضبوط تھی اور روس نے بھارت کی مارکیٹ پر اپنا اثرو رسوخ بڑھایا ہوا تھا اور اس میں پیسے کی چمک بھی صفائی کے ساتھ موجود تھی، یہ بات بھی واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ جہاں تجارت نفع بخش ہے، وہاں اس میں کمیشن اور پیسے کی چمک و دمک بھی بہت زیادہ ہوتی ہے، ہم پاکستان میں بھی اس کے بہت اثرات دیکھ چکے ہیں اور بھارت میں بو فورس توپوں کی خریداری میں سوئیڈن سے کمیشن کا معاملہ راجیو گاندھی کے زمانے میں نمایاں طور پر دُنیا کے سامنے آیا، اسی طرح سے فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر کمیشن کا الزام اس وقت کے فرانسیسی صدر ہولنڈے نے خود لگایا کہ انہوں نے بھارتی تاجر امبانی کے ذریعے یہ طیارے خریدے اور مال بنا لیا۔ واضح رہے کہ فرانس کمیشن دینے میں بہت مشہور ہے، امریکہ ایک عرصے سے بھارت کی دفاعی مارکیٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہا ہے، مگر روس نے بھارت کو ڈرانے دھمکانے کے ساتھ ساتھ رعایت اور لالچ و کمیشن دے کر بھارت کو قابو میں رکھا ہوا ہے اور امریکہ کی دفاعی انڈسٹری کے کرتا دھرتا اِس بات پر سیخ پا ہیں کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف حمایت کرنے کے بعد بھی اُن کو بھارت کی اسلحہ اور آلات کی تجارت میں وہ حصہ نہیں ملا جس کی وہ اُمید لگائے بیٹھے تھے اور اس ناراضگی کا وہ بار بار اظہار کرتے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اُن کا جھکائو پاکستان کی طرف ایک تو افغان معاملے کو حل کرانے کی ہماری کاوشوں کی وجہ سے ہوا ہے اور دوسرے بھارت کو متنبہ کرنے کے لئے کہ اگر وہ امریکہ کی طرف نہ جھکا تو وہ پاکستان کو وہ کچھ دیں گے جو بھارت کی سبکی کا باعث ہوگا۔ اگرچہ پاکستان کے وزیراعظم نے اپنے بیان میں سپر طاقت کو خاطر میں نہ لانے کا عندیہ دیا ہے، وہ اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان اپنے دفاعی معاملے میں اور اپنی بقا کے لئے کسی کو خاطر میں نہیں لاتا، اس سامانِ حرب کی تجارتی دُنیا میں جہاں امریکہ، روس، فرانس، چین، سوئیڈن اور دیگر ممالک ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں، وہاں ایک نیا دفاعی تاجر پاکستان کی شکل میں داخل ہوگیا ہے اور اس نے ایک چھوٹی سی جھڑپ میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے ایک چمکتے ہوئے ستارہ کی شکل اختیار کرلی ہے، اس لئے امریکہ نے اِن بھارتی طیاروں کو گرانے کا اعزاز ایف 17 تھنڈر کو دینے کی بجائے ایف 16 کو دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جو یکسر غلط ہے۔ ایف 17 تھنڈر پاکستانی ساختہ ہے اور ہم اس پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ ایف 16 اگرچہ ہمارے پاس ہیں، مگر ہم اس پر اتنا اعتبار نہیں کرتے، کیونکہ اس کے ہر پرزے کی صلاحیت اور اُس کے اثرات پر ہمیں مکمل دسترس نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی پرزہ یا آلہ کچھ ایسے سگنل نشر کرتا ہو، جو اس کو ڈی کوڈ یا اُس کے معنی امریکہ سمجھ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے خصوصی مقامات پر امریکہ کی تیار شدہ سوئی تک نہیں ہوتی۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جب ہم دُنیا کے افق پر ایک طاقت کے طور پر ابھریں گے تو ہمارے خلاف کیا کیا ممکنہ سازشیں ہو سکتی ہیں، اس کے لئے جو انسانی عقل سوچ سکتی ہے، وہ ہم نے سوچ رکھا ہے اور اس کا تدارک کرلیا ہے یا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ ہم ایک ذمہ دار ایٹمی ملک کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور اسٹرٹیجک برداشت و تحمل (Strategic Tolerance) کا مظاہرہ کر رہے ہیں، یہ بات بھی اپنی جگہ پر صحیح ہے کہ ہم دفاعی انڈسٹری کی دُنیا میں داخل ہو چکے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا شروع کر دیا ہے۔ اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے بھارتی طیاروں کو گرانے میں ایف 16 طیاروں کے استعمال کا شوشہ چھوڑا گیا ہے جو غلط ہے۔ ہم ایسے کسی مہم پر ایف 16 استعمال نہیں کریں گے کہ وہ آسانی سے منجمد ہو جائے، کیونکہ اس کا امکان موجود ہے کہ امریکہ نے اس میں کوئی ایسا پرزہ لگایا ہو، جو اُس منجمد کمانڈ کو قبول کرلے۔ پاکستان کے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے بھارتی طیاروں کو گرانے کا حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا اور بھارت کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے کے لئے پاکستان کی زنبیل میں ابھی کچھ اور بھی ہے۔
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment