بھارت کو پانچ محاذوں پر شکست

نصرت مرزا
ہم نے اپنے سابقہ مضمون ’’مودی کی خونریز انتخابی مہم کا آغاز‘‘ میں جو مؤقف اور شواہد فراہم کئے تھے، وہ ساری دُنیا بشمول بھارت کے دانشور اور دفاعی تجزیہ نگاروں نے من و عن قبول کر لئے اور وہ پاکستان کا بیانیہ بن گیا، اسی طرح 26 فروری 2019ء سے بھارت نے جو مہم جوئی شروع کی تھی، اس میں اُس کو پانچ محاذوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، فضائیہ میں اُن کے دو جہاز ایک مگ 21 اور دوسرا سخوئی 30 کو گرا لیا گیا، اس کے علاوہ اُس کا ایک پائلٹ مارا اور دوسرا پکڑا گیا ہے، تیسرے اس پر ابہام ہے کہ وہ زخمی حالت میں ہمارے پاس ہے یا نہیں اور یہ کہ اُس کی قومیت کیا ہے، تیسری اہم بات جس نے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں کہی تھی کہ چھ اہداف کو ’’لاک‘‘ کیا گیا، اس میں ایک ہدف تھا، جس کی زد میں بھارتی آرمی چیف اور اُن کے آپریشنل کمانڈر بھی آگئے تھے، یعنی اگر وہاں پر میزائل مار دیا جاتا تو وہ سب ہلاک ہو جاتے اور اُن کو بتا دیا گیا تھا کہ آپ ہمارے میزائل کی زد میں آگئے، ایک بٹن آپ کی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے، مگر ہم ایسا نہیں کررہے ہیں، کیونکہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور جنگ نہیں چاہتا، اس لئے اس میزائل کو جس کی زد میں اُن کے چیف آف آرمی اسٹاف تھے، وہ ایک میدان میں گرا دیا گیا اور پاکستان نے ایک بڑی جنگ کو روک دیا، جو بھارت کو خوفزدہ کرنے، اُس کی حیثیت کو اُس کی نظر میں واضح کرنے اور پاکستان کی فضائی برتری کو ثابت کرنے کا عمل تھا، جو بھارت کی سمجھ میں قدرے آگیا اور مودی کی بچکانہ حرکت جو اس نے بالاکوٹ میں کی، اس کا چرچہ اس طرح سے ہوا کہ بھارتی بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل رام داس نے کہا کہ بھارت نے بالاکوٹ پر حملہ اپنے ووٹرز کو لبھانے کے لئے کیا تھا، پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستان نے اس کا بدلہ لے لیا، جو اوپر بیان کر دیا گیا، مگر بھارت کی اس صلاحیت سے عاری تھا اور ہے، اب وہ فرانسیسی طیارے رافیل کے حصول کا انتظار کر رہا ہے، جو پھر ایک بچکانہ حرکت ہے اور ایک ایٹمی ذمہ دار ملک کا رویہ نہیں ہے، ایک ذمہ دار ایٹمی ملک کا رویہ پاکستان نے اپنایا، یہ بات بھی پہلی مرتبہ منظرعام پر لائی جا رہی ہے کہ بھارت کے جو طیارے بالاکوٹ میں داخل ہوئے وہ راڈار پر نظر نہ آنے والے یعنی اسٹیلتھ طیارے تھے، جواباً پاکستان نے جو کارروائی کی، وہ فضائی تاریخ میں بطور ایک سبق پڑھائی جانے کے قابل ہے، جیسا کہ ہمارے عظیم پائلٹ ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں بھارت کے چھ طیارے مار کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔
پاکستان کی دوسری بڑی کامیابی بھارت کی فرانسیسی جدید ترین آبدوز اسکارپین ’’کلوری‘‘ جس کے رنگ و روغن پر ابھی پانی کا اثر نہیں ہوا ہے، اُس کا پاکستان کی بحری حدود سے پاک بحریہ کے طیاروں نے اس وقت تلاش کرلیا، جب اس نے اپنا پیرس کوپ (Periscope) (ایسا آلہ جس سے آبدوز میں بیٹھے پانی کے اوپر دیکھا جا سکتا ہے) اور دوسرا آکسیجن کو آبدوز میں لانے والا آلہ سمندر سے باہر نکالا، دونوں تصویریں پاکستانی بحریہ کے جہاز نے حاصل کیں اور آبدوز کو پتہ تک نہ چلا کہ اُس کے ساتھ یہ کارروائی ہو رہی ہے۔ اس کے بعد وہ جدید بحری آبدوز ایک بحری میزائل کی مار تھی اور یہ بات بھی ذہن میں رکھا جائے کہ آبدوز اس وقت تک کارآمد اور خطرناک ہوتی ہے جب تک اس کا پتہ نہ چلے اور پتہ لگ جانے کے بعد اُس کو بہ آسانی نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ہمارے پاس جدید ترین آلات ہیں، جو کسی دفاعی نظام کو دھوکہ دے کر نشانہ لگا سکتے ہیں، اگر ہم زمین سے ماریں تو ’’حربہ‘‘ نامی میزائل جدید ترین ہے، مگر ایسی صورت میں جدید ترین کے علاوہ عام میزائل بھی استعمال کرنا کافی ہوتا، لیکن یہاں بھی بھارت کو رسوا کر کے اُس کی آبدوز کو چھوڑ دیا گیا، دُنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی ممبر شپ ہی نہیں، ایٹمی گروپ N5 کی ممبر شپ کا بھی اہل ہے۔
تیسری کامیابی سائبر جنگ میں ہوئی۔ جب انہوں نے پی آئی اے کے نظام پر حملہ کیا تو پاکستان کے نوجوانوں نے اُن کے CBR کی سائٹ پر قبضہ کر لیا اور وہاں پاکستان زندہ باد لکھ دیا۔ چوتھی کامیابی سفارتی محاذ پر ہوئی۔ ہر ملک نے پاکستانی مؤقف کو سراہا اور پاکستان کے بیانیہ کو تسلیم کرلیا۔ نیویارک ٹائمز نے اِس بات کو مانا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ کسی نے لکھا کہ بھارت غیر ضروری طور پر چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو بھارت اپنی مہم جوئی کی وجہ سے اُجاگر کر رہا ہے۔ شاید ہم اپنی کارروائیوں کی وجہ سے اس مسئلے کو دُنیا کی نظروں میں اتنا اہم نہیں بنا سکتے تھے، جو بھارت نے اپنے بچکانہ اور غیر ذمہ دارانہ عمل سے کر دیا اور دُنیا نے محسوس کرلیا کہ کشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے، ورنہ یہ ایٹمی جنگ کا فلش پوائنٹ ہے۔
پانچویں کامیابی ہمیں میڈیا میں نصیب ہوئی۔ ہمارے میڈیا نے جس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، وہ قابل ستائش ہے۔ میڈیا ذمہ داری سے پاکستان کے مؤقف اور جنگ کی تباہ کاریوں اور پاکستان کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرتا رہا، جبکہ بھارت کا میڈیا فوج کے ’’وار روم‘‘ کا کردار ادا کرتا رہا، جو اپنی فوج کو دھکیل کر جنگ کا ایندھن بنانا چاہتا تھا، جبکہ ہمارا مؤقف تھا کہ جنگ کے بعد کچھ نہیں بچے گا، اس لئے امریکہ اور روس کی طرح کا طرزعمل اپنایا جائے اور مذاکرات کئے جائیں نا کہ دھمکی دی جائے یا اپنے آپ کو ازخود سپر طاقت تسلیم کرکے بڑھکیں مارنا شروع کر دیں۔ ہم نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ بھارت سپر طاقت کی خود فریبی کا شکار ہوگیا ہے، خود فریبی عالمی امن کے لئے خطرہ ہے۔ ہم اس کے بعد یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عالمی جغادری نے جو ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں، وہ جان لیں کہ بھارت کی مہم جوئی کی صورت میں دُنیا کا امن تباہ ہو جائے گا، انسانیت کو خطرہ ہے، یہ عالمی جغادری بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے، اس لئے جو غیر ذمہ دار ملک ہے، واضح پالیسی یا خفیہ عمل سے وہاں کے حکمرانوں کو اقتدار سے باہر کر دیا جائے اور نریندر مودی کمتر درجے کا شخص ہے اور بھارت جیسی ریاست جو ایٹمی طاقت ہے، اس کا سربراہ بننے کا لائق نہیں ہے۔ عالمی ٹھیکیدار اُس کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور بھارتی عوام کو بتائیں کہ بھارت کا سب سے بڑا دشمن خود نریندر مودی ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنی حکومت کی توجہ بھی چاہئے، اس کشمکش کے دوران میڈیا نے جو کردار ادا کیا، جس حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ بے مثال ہے، اس لئے میڈیا ہائوسز کے تمام بقایاجات ادا کردیئے جائیں اور ان کی ہمت افزائی کی جائے تاکہ وہ اپنے کارکنوں کو واپس اپنے ادارے میں شامل کرلیں، جو میڈیا وار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ ٭
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment