تربیلا کا چوتھا توسیعی منصوبہ بحال

اٹک ؍ لاہور ( نامہ نگار؍ امت نیوز ) تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے سے بجلی کی پیداوار دوبارہ شروع ہو گئی ہے منصوبے کے یونٹ نمبر 16کے دوسرے گیٹ کو بھی انجینئرنگ کی بہترین تکنیک کو بروئے کار لاتے ہوئے لفٹ کر لیا گیا ہے جس کے بعد یونٹ نمبر 16نے بجلی کی پیداوار کا آغاز کر دیا ہے اور اس یونٹ سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ کو مہیا کی جا رہی ہے آئندہ چند روز میں منصوبے کے باقی دو یونٹ سے بھی بجلی کا پیداوار ی عمل بتدریج شروع کر دیا جائے گا قبل ازیں یونٹ نمبر 16 کا پہلا گیٹ سوموار کو لفٹ کیا جا چکا ہے تربیلا کے آبی ذخیرے میں پانی کی انتہائی کم آمد کے باعث مٹی کی زیادہ مقدار آنے اور پن سٹاک والو میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے ڈرافٹ ٹیوب گیٹس میں مٹی جمع ہو گئی اور گیٹس مٹی میں پھنس گئے تھے پراجیکٹ انتظامیہ ، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کی جانب سے بھر پور کوشش اور تکنیکی مہارت کے ساتھ گیٹس کو لفٹ کرنے کے لئے کام کا آغاز کیا گیا واپڈا انجینئرز آج دوسرا گیٹ بھی لفٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں دوسرا گیٹ لفٹ ہونے پر واٹر وے سسٹم میں پانی کی بھرائی کی گئی جس کے بعد تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے سے بجلی کی پیداوار شروع کی جاچکی ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈرافٹ ٹیوب گیٹس کی بندش سے قبل تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے سے آزمائشی پیداوار کے دوران 17کروڑ 70لاکھ یونٹ بجلی مہیا کی گئی ۔ ادھر واپڈا نے حکومت کو دریائے سندھ کے پانی سے 40ہزار 852میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا پلان پیش کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق واپڈا کی جانب سے حکومت کو پیش کئے جانے والے پلان میں بتایا گیا کہ دریائے سندھ سے 40ہزار 852میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔تربیلا جی بی سے 7ہزار 748میگاواٹ، بنجی منصوبے سے 7ہزار 100میگاوٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ بھاشا سے 4500میگاواٹ، یلبو سے 2800،داسو سے 4320میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔تھاہکوٹ سے 4344،پٹن ہائیڈو پاور پراجیکٹ سے 2400 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ شیوک پاور منصوبے سے 640اور کالا باغ پاور منصوبے سے 3600میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

Comments (0)
Add Comment