ٹیکنیکل بورڈ – کالجز میں اضافی طلبہ کھپاکر نقل مافیا کی راہ ہموار کردی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن انتظامیہ نے نقل مافیا کو نوازنےکیلئے امتحانی مرکز کا نظام درہم برہم کردیا۔ایک درجن سے زائد امتحانی مرکز تبدیل کر کے بیشتر کالجز میں ضرورت سے زائد طلبہ کھپادیئے جس سے نقل کی راہ ہموار ہوگئی ،جب کہ امتحانات کے مطلوبہ انتظامات نہ ہونے کے باعث کالجز منتظمین کی پریشانی بڑھ گئی ہے ۔ امتحانی مرکز میں کرائے کی کرسیوں نے بورڈ پر لاکھوں روپے کا بوجھ ڈال دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن انتظامیہ کی نا اہلی کے باعث آج سے ہونے والے ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئر سا ل دوئم کے امتحانات بدنظمی کا شکار ہوگئے ہیں،کالجز انتظامیہ سے معلوم ہوا ہے کہ بورڈ نے ان کے کالج میں غیر ضروری طلبہ کے لئے امتحانی مرکز بنا دیا ہے ،جبکہ ان کی گنجائش ہے اور نہ ہی کرسیاں،میز،بورڈ سے رجوع کرنے اور متعدد بار بتانے پر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔بورڈ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ بگاڑ ناظم امتحانات نہ ہونے اور بورڈ انتظامیہ کی جانب سے نقل مافیا اور طلبہ تنظیموں کے دباؤمیں آکر پرچے سے ایک روز قبل امتحانی مرکز تبدیل کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جن کالجز کا امتحانی مرکز کی فہرست سے نام خارج کیا گیا تھا ۔وہاں گنجائش زیادہ ہوتی تھی، تاہم بورڈ انتظامیہ نے نقل مافیا کو نوازنے کے لئے جن غیر الحاق شدہ کالجز اور اسکول کو امتحانی مرکز بنایا ہے ،وہاں اتنی گنجائش نہیں ہے ،جس کی وجہ سے درجن سے زائد کالجز میں ضرورت سے زیادہ طلبہ کا امتحانی مرکز بنایا ہے،بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ کالجز انتظامیہ و مالکان کی جانب سے بورڈ کو اس متعلق تحریری و زبانی طور پر بتایا بھی گیا ہے کہ ان کے پاس گنجائش نہیں اور نہ ہی کرسیاں میز ہیں تاہم بورڈ انتظامیہ انہیں یہ کہ کر ٹال رہی ہے کرائے پر کرسیاں،میز لے کر طلبہ کو کھپا لو اور اب کوئی مزید تبدیلی نہیں کی جا سکتی اور مذکورہ کرسیاں اور میز کی ادائیگی کالج کرے گا،کالجز انتظامیہ کی جانب سے نشاندہی کی گئی کہ مذکورہ امتحان کی ڈیٹ شیٹ کے مطابق امتحان 12 ستمبر سے 29 ستمبر تک جاری رہیں گے، اور محرم کے پیش نظر 18 ستمبر سے 25 ستمبر تک گیپ دیا گیا جبکہ فی کرسی 10 سے 15 روپے کرایا ہے اور فی امتحانی مرکز سیکڑوں اضافی طلبہ پر ایک امتحانی مرکز پر ہزاروں روپے کا مالی بوجھ پڑے گا اور کالجز انتظامیہ کو کرسیوں کی ادائیگی مذکورہ گیپ روز کی بھی کی جائے گی تاہم ادائیگیوں سے متعلق بورڈ انتظامیہ نے تحریری طور پر کچھ جاری نہیں کیا گیا،امت سے گفتگو کرتے ہوئے بورڈ میڈیا کوآرڈینییٹر زوہیب کا کہنا تھا کہ مذکورہ امتحان میں امتحانی مرکز ہی کم بنائے گئے ہیں جبکہ امتحانی مرکز کالجز کی جانب سے جمع کرائی گئی این او سی کے مطابق ہی بنائے جاتے ہیں،ان کا مزید کہنا تھا کہ طلبہ کی جانب سے امتحانی فارم لیٹ جمع کرائے جاتے ہیں ،جس کی وجہ سے مختص تعداد پر 50 سے 70 طلبہ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

Comments (0)
Add Comment