کراچی ( رپورٹ / صفدر بٹ ) سندھ حکومت نے جاپانی مدد سے تعمیر جدید بچہ اسپتال لاوارث چھوڑ دیا ،۔ فنڈز کی عدم فراہمی کے سبب نارتھ کراچی چلڈرن اسپتال کے 350 سے زائد ملازمین 2 ماہ کی تنخواہ سے محروم ہیں جبکہ مریضوں کوبھی علاج میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ مالی معاملات بہتر نہ ہونے پر آئندہ چند یوم میں اسپتال بند ہونے کے خدشات بڑھ گئے ۔ تفصیلات کے مطابق جاپانی تنظیم جائیکا کی جانب سے کروڑوں روپے کی لاگت سے مارچ 2015 میں تعمیر ہونیوالا بچوں کا جدید اسپتال محکمہ صحت اور این جی او زکی لاپرواہی کے باعث مشکلات سے دوچار ہونے لگا ہے محکمہ صحت مکمل طبی آلات و مشینری سے آراستہ اسپتال 2 سال تک فعال کرنے میں ناکام رہا تھا جس کے بعد پی ای آئی نامی این جی او سے اسپتال چلانے کا معاہدہ کیا گیا تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز ، نرسز ، پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت 350 سے زائد ملازمین این جی او کے ماتحت فرائض انجام دیتے ہیں جنہیں گزشتہ 2 ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کی جا سکیں جس کے باعث ملازمین شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں ، ملازمین کا کہنا ہے کہ پہلے ماہ تنخواہ نہ ملنے پر انہوں نے جیسے تیسے گزارہ کرلیا تاہم اب تو انہیں کوئی ادھار بھی نہیں دے رہا جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی اسکول فیسیں بھی ادا نہیں کر سکے انہوں نے کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے جو غیر ملکی تنظیم کی جانب سے کروڑوں روپے کے آلات و مشینری سمیت جدید سہولیات سے آراستہ اسپتال چلانے میں ناکام ہے اور فنڈز فراہم نہ کر کے تباہی سے دوچار کیا جا رہا ہے ، حکومت کے اس اقدام کی وجہ سے ڈونر ایجنسی ( جائکا ) کا اعتماد بھی مجروح ہو گا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسپتال کا بجٹ ہنگامی بنیادوں پر جاری کیا جائے تاکہ مریضوں کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے اورملازمین کے واجبات فوری ادا کئے جائیں۔ امت کے رابطہ کرنے پر چلڈرن اسپتال کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فاطمہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فنڈز کے اجرا میں تاخیر سے اسپتال کے امور چلانے میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں اور ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے میں مسائل کا سامنا ہے ۔