کراچی(اسٹاف رپورٹر) واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم نے صدر میں میر کرم علی خان تالپورروڈ پر فوڈ اسٹریٹ کے حوالے سے مقامی انگریزی اخبار میں شائع تصویر کو نوٹس لے لیا ہے ۔ واٹر کمیشن نےکمشنر بلدیہ عظمیٰ کراچی ،کراچی پولیس چیف و ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو جمعرات کو طلب کرتے ہوئے ٹریفک روانی روکنے کی وضاحت طلب کر لی ہے ۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پیپلز پارٹی کےرہنماؤں فریال تالپور، ناصر حسین شاہ، سہیل انور سیال،سردار غیبی خان چانڈیو ،منظور وسان کے خلاف اقامہ مقدمات میں مد عا علیہان کے وکیل فاروق نائیک کو طلب کرتے ہوئے25 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ منگل کو دوران سماعت خواجہ شمس الاسلام نے موقف اپنایا کہ ان کے موکل سہیل انور سیال اور فریال تالپور کے خلاف کیس چلانے کو تیار ہیں۔ اس موقع پر عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ آپ کے جواب میں کچھ نہیں۔ تفصیلی جواب کی ہدایت پر ایک صفحے کا جواب جمع کرایا گیا ۔ خواجہ شمس الاسلام ایڈووکیٹ نے کہا کہ فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک نہیں آئے تو ان کے جونئیر کو کیس چلانا چاہئے۔اس پر عدالت نے کہا کہ فاروق نائیک سے کہیں وہ آئندہ پیش ہوں ورنہ ان کا کیس الگ کر دیں گے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا تھا کہ فریال تالپور نے اپنے جواب میں اقامہ اور دبئی کے اثاثے ظاہر نہیں کیے۔ فیصلے تک فریال تالپور سے عوامی عہدہ واپس لیا جائے۔ فریال تالپور نے 2002میں صاحبزادی عائشہ کے نام پر دبئی میں کمپنی قائم کی تاہم رقم دبئی منتقل کرنے کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے چھپائیں۔جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر وہ صادق اور امین نہیں رہیں۔ ناصر حسین شاہ، منظور وسان، سہیل انور سیال، سردار غیبی خان چانڈیو کو بھی ناہل قرار دے کر اسمبلی رکنیت کیلئے نااہل قرار دیا جائے۔