پشاور(رپورٹ:محمد قاسم)افغان طالبان نے ماسکو کانفرنس میں اپنی شرائط پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری ، ہمسایہ اور مسلم ممالک کو مستقبل میں ہونے والے معاہدوں پر امریکہ کی جانب سے عملدرآمد کی گارنٹی دینا ہوگی ۔ گارنٹی دیئے بغیر امن قائم نہیں ہوگا ۔طالبان دنیا بھر کو یہ ضمانت دینے کو تیار ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کو ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا ۔افغان خواتین کو شوہر کے انتخاب ،کاروبار ،وراثت ،تعلیم ،سیکورٹی اور صحت کے حقوق کے علاوہ کام کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔مذاکرات کیلئے افغان طالبان کی قیادت پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا ۔افغان طالبان ذرائع سے ماسکو میں ہونے والی کانفرنس کے دوران افغان طالبان کے نمائندوں کے ذریعے سامنے آنے والے مؤقف کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ افغان طالبان نےقیام امن کے حوالے سے امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ افغانستان میں امن کیلئے جب تک گارنٹی نہیں دی جائے گی،امن قائم ہونا ممکن نہیں ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ ،چین ،روس ،فرانس ،برطانیہ ،اسلامی کانفرنس تنظیم کے رکن ممالک و افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو امن مذاکرات کے بعد ہونے والے معاہدوں پر امریکہ کے عمل درآمد ،واشنگٹن کی جنگی پالیسی اورافغان آئین کی تبدیلی کی گارنٹی دینا ہو گی۔طالبان دنیا کے تمام ممالک ،عالمی اداروں خاص طور پر اقوام متحدہ و اسلامی ممالک کانفرنس تنظیم کو ضمانت دیں گے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی ۔ طالبان نے کہا کہ افغان ایک قوم ہے جسےتقسیم نہیں کیا جا سکتا۔40برس سے افغان قوم جنگ کی آگ میں ہے،اس کے معدنی ذخائر کو لوٹا جارہا ہے اور ان پر مذہبی حملے کئے جارہے ہیں۔ افغانوں کے گھر تباہ کئے گئے۔17سال سے امریکی قبضہ سے پر امن زندگی برباد ہو گئی ۔لاکھوں افرد ہلاک ہوئے۔افغانستان میں جغرافیائی، اخلاقی،علاقائی ،مذہبی و لسانی نفرتوں میں اضافہ ہو گیا ہے ۔افغان قومی اقدار برباد ہوئیں ۔کرپشن کی وجہ سے بیروزگاری بڑھی۔ بد قسمتی سے10فیصد افغان آبادی نشے میں مبتلا ہے ۔ افغانستان میں امن کے بغیر دنیا معاشی ،اقتصادی ،تعلیمی ،ثقافتی ،سماجی اور سیاسی طور پر ترقی نہیں کر سکتی ۔ اس لئے تمام دنیا کو افغانوں کی مدد کرنا ہو گی۔امن کیلئے افغان طالبان کے تمام اراکین پر پابندی ہٹانی ہو گی۔ چندافراد کے سوا تمام طالبان قیادت پر پابندی ہے ، ایسے میں وہ کیسے مذاکرات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ طالبان قیدیوں اور طالبان کے نام پر گرفتار کئے گئے تمام قیدیوں کو چاہے وہ امریکہ میں ہیں یاافغانستان میں ہیں ، چھوڑنا ہوگا ۔افغان طالبا ن کو ملک کے اندر یا دنیا کے کسی بھی ملک میں رسمی دفتر کھولنے کی اجازت دی جائے ۔طالبان کے خلاف پروپیگنڈا بند کیاجائے ۔ طالبان نمائندوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک فلاحی اور اسلامی ریاست کا نظام وضع کیا جائے گا ۔جب تک امن کے لئے گارنٹی نہیں دی جائے گی امن کا قیام ممکن نہیں ۔اس مقصد کے لئے اقوام متحدہ ،چین ،روس ،فرانس ،برطانیہ ،اسلامی و ہمسایہ ممالک کو گارنٹی دینا ہو گی کہ امن مذاکرات کے بعد معاہدوں پر امریکہ عملدرآمد کرے گا ۔افغان آئین میں تبدیلی لائی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ طالبان کے دور میں منشیات کی اسمگلنگ 3 فیصدہو گئی تھی جو اب 87فیصد سے زائد ہے ۔کانفرنس میں پاکستانی وفد نے زور دیا کہ فوجی نہیں بلکہ سیاسی حل سے ہی افغانستان میں قیام امن ممکن ہے۔تمام اسٹیک ہولڈرز کو افغانستان میں نتیجہ خیز امن کے عمل کیلئے موزوں حالات کو پیدا کرنا ہوگا ۔پاکستان نے امن اور مفاہمت کے فروغ کیلئے ایسے اقدامات کئے جو افغان قوم کیلئے قابل قبول تھے ۔پاکستان نے جو حل کئی برس قبل تجویز کیا تھا ، آج اسی کی روشنی میں حل کیلئے راہیں تلاش کی جارہی ہیں۔ہم افغان خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ افغان قوم اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرے۔