تاجروں کا قیمتی سامان رات بھر سڑکوں پر پڑا رہا

کراچی( رپورٹ:نعمان اشرف/اطہر فاروقی) تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران متبادل جگہ نہ ملنے کے ایمپریس مارکیٹ کے متاثرہ تاجروں کا لاکھوں مالیت کا سامان ضائع ہوگیا۔فروٹ،ڈرائی فروٹ،پان،مصالحے و دیگر دکانوں کا سامان رات گئے تک سڑکوں پر پڑا رہا۔ ایمپریس مارکیٹ کے دکاندار حضرت علی نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ ان کا آبائی تعلق پشین سے ہے اور وہ 40برس سے اسی مارکیٹ میں دکان چلا رہے ۔موسم سرما شروع ہوتے ہی نے قرض لے کر دکان میں 30لاکھ کا سامان رکھا ۔رنگ و روغن کرنے پر بھی لاکھوں کا خرچ ہوا۔سردی کا موسم شروع ہوتے ہی بلدیہ عظمیٰ کراچی نے قیامت ڈھادی۔اسی دکان سے گھر کی کفالت کرتا تھا ۔ اب میرے پاس روزگار کا اور انتظام ہے نہ متبادل جگہ دی گئی ہے۔قلعہ عبداللہ سے تعلق رکھنے والے اسحاق کا کہنا تھاکہ وہ30 برسوں سے چائے کا ہوٹل چلارہا تھا ۔کچھ دن قبل ہی ہوٹل کی کرسیاں اور میزیں تبدیل کی تھیں ،جس پر 2لاکھ خرچہ آیا تھا۔بلدیہ عظمی کو کرایہ وقت پر ادا کرتا رہا ہوں ۔کے ایم سی کے بیٹرز بھی یومیہ 200روپے بھتہ وصول کرتے رہے ہیں۔بلدیہ عظمیٰ کے انتباہ پر ہی دکان کا چھجہ اور کرسیاں اندر کرلی تھیں ،تاہم جب وہ آئے تو انہوں نے کہا کہ اپنا ہوٹل ختم کرو،ہم یہاں سے تمہیں نکالنے آئے ہیں اور 3دن کا وقت دے کر ہوٹل گرا دیا گیا ۔کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے عبدالمنان نے بتایا کہ وہ مارکیٹ میں 45سال سے برتنوں کی فروخت کرتا رہا ہے، اب لاکھوں کا سامان روڈ پر پڑا ہواہے۔کراچی میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں کرائے پر رہتا ہوں۔چمن سے تعلق رکھنے والے ولی خان نے بتایا کہ وہ 50برس سے ڈرائی فروٹ کی دکان چلا رہے ہیں۔دکان خالی کرائے جانے کی وجہ سے اب ہمارے پاس سامان رکھنے کی بھی جگہ نہیں۔نقیب اللہ نے ’’امت ‘‘کو بتایا کہ وہ 50 برس سے جوتوں کی فروخت کے کاروبار سے منسلک ہے ۔شادی سیزن کی وجہ سے15لاکھ کا سامان دکان میں ڈلوایاتھا ،اب میں اس سامان کا کیاکروں۔اسی دکان سے گھر کے 12افراد کی کفالت کرتا ہوں۔دکان نہ ملی تو 10لاکھ کا نقصان ہو جائے گا ۔

Comments (0)
Add Comment