ڈیپ سی پالیسی سے ہزاروں افراد کا روز گارخطرے میں پڑگیا

کراچی(رپورٹ :اسامہ عادل) وفاقی حکومت کی نئی ڈیپ سی پالیسی سے ہزاروں افراد کا روزگار خطرے میں پڑگیا۔نئی پالیسی کے خلاف ماہی گیروں نے چوتھے روز بھی احتجاج جاری رکھا اور 16 ہزار لانچیں بدستور فش ہاربر پر کھڑی ہیں۔ نئی پالیسی سے فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی کو بھی اب تک ایک ارب سے زائد کا نقصان ہوچکا۔پالیسی کے تحت وفاقی حکومت سے لائسنس کے بغیر ماہی گیروں کو سمندر میں 12ناٹیکل سے آگے لانچیں لے جانے کی اجازت نہیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی نئی ڈیپ سی پالیسی کے نفاذ سے ماہی گیروں سمیت ہزاروں افراد کا روزگار داؤ پر لگ گیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے ستمبر میں ایک اشتہار شائع کرکے نئی ڈیپ پالیسی متعارف کروائی گئی۔پالیسی کے مطابق سمندر میں تین زون قائم کئے گئے۔پہلا زون جو 12ناٹیکل پر مشتمل ہے، کے لیے ماہی گیروں کو وفاقی حکومت سے لائسنس کی ضرورت نہیں ہوگی۔ دوسرے زون کی حدود 12سے 20ناٹیکل جب کہ تیسرے زون کا رقبہ 20سے 200ناٹیکل تک رکھا گیا ہے۔دونوں زون کے لیے لائسنس کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں ماہی گیروں کولائسنس کے لئے 15روز کا وقت دیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے نئی پالیسی بناتے وقت اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جبکہ محض اشتہار کے ذریعے نئی پالیسی کے اعلان کے باعث ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہزاروں افراد پالیسی کے حوالے سے بے خبر رہے۔معلوم ہوا ہے کہ 15روزہ مہلت ختم ہونے پر 12ناٹیکل سے آگے جانے والی لانچیں پکڑنے کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے بعد متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنے پر ماہی گیروں کو نئی ڈیپ سی پالیسی سے متعلق علم ہوا۔ماہی گیروں نے گہرے سمندر میں جانے سے روکنے پر احتجاج کیا، تاہم حکومت کی جانب سے احتجاج کا نوٹس لینے اور پالیسی پر اعتماد میں نہ لئے جانے پر 10نومبر کو ماہی گیروں نے احتجاجاً اپنی لانچیں فش ہاربر پر کھڑی کردیں۔‘‘امت ’’سے بات کرتے ہوئے ذمہ دار صدیق چوہدری کا کہنا تھا کہ پالیسی سے متعلق علم نہ ہونے پر ماہی گیروں نے لائسنس حاصل نہیں کیا اور گہرے سمندر کے مقابلے میں 12ناٹیکل کی حدود میں شکار ممکن نہیں۔گزشتہ 4روز سے ماہی گیروں نے اپنی لانچیں بطور احتجاج فش ہاربر پر کھڑی کر رکھی ہیں، جن کی تعداد ساڑھے 15 ہزار سے 16ہزار تک ہے ۔انہوں نے بتایا کہ 2ہفتے قبل وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز علی زیدی سمیت وزیر اعلی سندھ سے بھی مذکورہ مسئلے پر بات ہوئی، تاہم معاملے کے حل کیلئے اب تک کوئی اقدامات نہ کئے گئے ۔ چیئرمین فشر مینز کو آپریٹو سوسائٹی عبدالبر کا کہنا ہے کہ ماہی گیری کے پیشے سے ہزاروں خاندان وابستہ ہیں۔نئی ڈیپ سی پالیسی 2018 ماہی گیروں کا معاشی قتل ہے۔نئی پالیسی بناتے وقت اور اس کے نفاذ سے قبل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کا احتجاج جائز اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں،مگر احتجاج کی آڑ میں کسی شر پسندی کو برداشت نہیں کریں گے۔ ادھر وفاقی وزیر میری ٹائم علی زیدی کہنا ہے کہ نئی ڈیپ سی پالیسی معطل کردی۔یہ پالیسی نگراں حکومت کے دور میں بنائی گئی تھی ۔

Comments (0)
Add Comment