منی لانڈرنگ پر عمر قید-جائیداد ضبط ہوگی-قانون تیار

اسلام آباد(رپورٹ اخترصدیقی)پاکستان میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی قانون کوحتمی شکل دے دی گئی ،جس کے تحت عمر قید اور جائیداد ضبط ہو گی ،جبکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اینٹی منی لانڈرنگ ٹاسک فورس بنانے کے ساتھ ساتھ کرنسی، سونا، چاندی اور دیگر اشیاء کی بیرون ملک ا سمگلنگ کی سزا میں اضافہ تجویزکیاگیاہے ۔ ٹاسک فورس کے دفاتر ملک کے تمام ایئرپورٹس پر قائم کئے جائیں گے۔اینٹی منی لانڈرنگ ٹاسک فورس بین الاقوامی این جی اوز کی ٹرانزیکشن کی مانیٹرنگ کریگی ،تاکہ ان اداروں کے ذریعے منی لانڈرنگ نہ ہوسکے اس کے علاوہ مدارس ومذہبی جماعتوں کو غیرملکی فنڈنگ کی نگرانی بھی سخت کی جائے گی اور ان کے لئے آڈٹ لازمی قرار دیا جائے گا۔منی لانڈرنگ پرعمرقید کی سزا دی جاسکے گی ،جبکہ بھاری جرمانے بھی عائد ہوسکیں گے۔نئے قانون کے تحت رقم کی غیرقانونی ترسیل کے ساتھ ساتھ جائیداد کی دہشت گردی کیلئے منتقلی کو منی لانڈرنگ کے زمرے میں شمار کیاجائے گا اور ایسا کرنے والوں کےخلاف کارروائی کی جاسکے گی۔نئے قانون سے دیگرممالک سے مل کربدعنوان عناصرکے خلاف کارروائی اوربنک اکاؤنٹس فریزکرنے کےلئے اداروں کو زیادہ بااختیار بنایا جائے گا۔وفاقی وزارت قانون وانصاف کے قریبی ذرائع نے ‘‘روزنامہ امت’’ کوبتایاہے کہ حکومت نے اینٹی منی لانڈرنگ قوانین میں ترامیم کرنے کے لیے تمام ترمعاملات کوحتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت ایف بی آر، ایف آئی اے ایکٹ1974،بنک ایکٹ1947 ،اور ایکٹ 2010،میں ترمیم کے ساتھ ساتھ پاکستان پینل کوڈ1860،اینٹی کرپشن ایکٹ 1979،کاپی رائٹ آرڈیننس 1962،سیکورٹیزاینڈایکسچینج ایکٹ 1969،نیب آرڈیننس 1999،آرمزایکٹ 1878، فارنرزایکٹ 1946میں ترامیم تجویزکی گئی ہیں ۔ان ترامیم کا ڈرافٹ آئندہ ہفتے سامنے لایا جائے گا۔انسداد منی لانڈرنگ کے ترمیمی قانون کے تحت بیرون ممالک سے مدارس کو ملنے والے چندے ،تحائف کی نگرانی سخت کی جائے گی۔تمام مدارس اور تنظیمات کوقانونی طورپر آڈٹ کا پابند بنایاجائیگا۔ اس کے ساتھ ساتھ فلاحی تنظیموں کی مانیٹرنگ اور تمام تر فنڈ کا آڈٹ بھی کیاجاسکے گا ۔انسداد منی لانڈرنگ قانون کو ایف اے ٹی ایف کی جانب سے وضع کردہ بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی ترامیم بھی بل کاحصہ ہیں۔ ان ترامیم کے ذریعے حکومت کو منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے مزید اختیارات دیئے گئے ہیں۔ منی لانڈرنگ کرنے والے کی جائیداد تین کے بجائے 6 ماہ تک فریز رکھی جاسکے گی۔ انکم ٹیکس، تجارتی قوانین، فارن ایکسچینج ریگولیشن، بینکنگ قوانین، تحائف بھجوانے یا وصول کرنے سے متعلق قوانین، بیرون ملک تعلیم، بیرون ملک علاج، سیرو تفریح، نجی کمپنیوں کو ان کے خالص منافع کی ایک مخصوص حد سے زائد تشہیری اخراجات سے متعلق قواعد کوبہتر بنایاجائیگا۔قانونی ذرائع سے رقوم اور دیگر اشیاء پاکستان بھجوانے والے اوورسیزپاکستانیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات ،مالی فوائد بھی قانون کا حصہ ہے ۔منی چینجزراور اس سے ملتے جلتے اداروں کی مانیٹرنگ بھی سخت کی جائیگی ۔ٹیکس گوشواروں میں تحائف کوالگ سے ثابت کرنے والوں کوبھی قانونی دائرہ کار میں لایاجائیگااور ان سے ان تحائف کی بابت مزیدمعلومات حاصل کی جاسکیں گی۔ فارن اکاؤنٹس کی تحقیقات میں سست روی دور کرنے کیلئے بھی ترامیم کی جارہی ہیں۔ مزیدممالک کے ساتھ معاہدے کیے جائیں گے ،جس کے تحت ملزمان کے اثاثوں ،بینک اکاؤنٹس سمیت دیگراہم ترین معلومات تک رسائی حاصل کی جائیگی ۔ منی لانڈرنگ کے ترمیمی بل میں دہشت گرد یا کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کیلئے کئی نئی شقیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ممنوعہ تنظیموں کے اب تک ایک ارب روپے سے زیادہ کے فنڈز منجمد کئے جا چکے ہیں۔قانون کے تحت ٹیکس چوری کرنے والا بھی منی لانڈرنگ کے قانون کی زد میں آئے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو منی لانڈرنگ کے ملزم کی جائیداد یا رقم ضبط کرنے کا اختیار ہوگا۔ذرائع کاکہناہے کہ حکومت ایک طرف ان نئے قوانین میں منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیراتنگ کرے گی تودوسری جانب جائز اور قانونی ذرائع سے رقوم پاکستان بھجوانے والے پاکستانیوں کے لیے 23سے زائد معاملات میں مراعات بھی دے گی، جس میں ان کی سفری سہولیات ،پاسپورٹ اور دیگر معاملات میں رعایتیں شامل ہیں۔بیرون ملک پاکستانیوں کی ملک بھرمیں موجودجائیدادوں ،اراضی اور دیگر قیمتی اشیاء کی قانونی طریقے سے حفاظت یقینی بنائی جائے گی اور اس سلسلے میں خصوصی فورس بھی تشکیل دی جاسکتی ہے۔نئے قانون کے تحت سرمایہ داروں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔ایف آئی اے کے سائبرونگ کوبھی مزیدمضبوط اور فعال بنانے کے ساتھ ساتھ انھیں مزیدتربیت بھی دی جائیگی، تاکہ وہ بین الاقوامی معاملات کاجائزہ لے کرمجرموں کے خلاف ایکشن لے سکیں ۔ذرائع کاکہناہے کہ مجرموں کے لیے جوسزائیں تجویزکی گئی ہیں ان میں مختلف مراحل میں اضافہ بھی تجویز کیا گیاہے ۔جان بوجھ کر معلومات چھپانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹاجائیگااور ان کی سزامیں تین سے پانچ سال تک کااضافہ کیاجاسکے گا۔منی لانڈرنگ میں مددکرنے والوں کے لئے بھی مجرم کے برابر سزاتجویزکی گئی ہے، تاکہ وہ آئندہ سے کسی مجرم کے ساتھ جرم میں معاونت نہ کرسکیں ۔کرپٹ سرکاری افسران کے خلا ف بھی گھیراتنگ کیا جارہا ہے گا۔ ذرائع نے بتایاکہ وفاقی حکومت کوپاکستان بار کونسل سمیت دیگر صوبائی بار کونسلوں سے بھی تجاویزموصول ہوئی ہیں جن میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے40سے زائد تجاویزاور بعض ترامیم تجویزکی گئی ہیں، ان سب کابھی حکومت نے جائزہ لیاہے اور ان تجاویز کی روشنی میں مسودہ قانون کو حتمی شکل دی جارہی ہے ۔سینئر قانون دانوں جن کاتعلق ٹیکس کے معاملات سے رہاہے یاوہ اس کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات میں پیش ہوتے ہیں ان سے بھی رائے لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کاروباری تنظیمات ،مالیاتی اداروں ،سے بھی تجاویزمانگی گئی تھیں وہ بھی حکومت کوموصول ہوگئی ہیں، جن کی روشنی میں نئی قانون سازی کی جائیگی ۔ذرائع کاکہناہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خود بھی ان سب تجاویزکاجائزہ لیاہے اور انھوں نے بہت سے معاملات پر پوائنٹس بھی لکھے ہیں ،جن کابھی جائزہ لیاجارہاہے۔ سینئر قانون دان اور سابق اٹارنی جنرل اشتراوصاف علی نے ‘‘روزنامہ امت’’ سے گفتگومیں کہا کہ حکومت کومنی لانڈرنگ کی روم تھام کے لیے قانون بنانے سے قبل منی لانڈرنگ کی تعریف واضح کرناہوگی کہ آخریہ منی لانڈرنگ کیاہوتی ہے، جب تک اس بات کی وضاحت نہیں ہوگی موثرقانون نہیں بنایاجاسکتا۔اسی طرح سے ہمیں اپنی معیشت کے ریکارڈ کو دستاویزی شکل میں لانا ہوگا،جس کے بعدہی منی لانڈرنگ نہیں ہوسکے گی ،موبائل فون میں بھی منی ٹرانزیکشن ہوتی ہے، جب اس کاریکارڈبن جائیگاتومنی لانڈرنگ نہیں ہوگی ،منی لانڈرنگ کے ذرائع ختم کرناہوں گے ۔ایسے پیسے جن کوکوئی بھی کسی کوبتانانہیں چاہتاوہ پیسے پاکستان میں قانونی طریقے سے لانے اور پھر بھجوانے والے کانام بھی رازرکھنے کانظام بن جائیگاتوایسے میں منی لانڈرنگ کم ہوجائیگی ۔ہمیں تمام معاشی ذرائع کوریکارڈپر لاناہوگاتب پتہ چل سکے گاکہ کون کون کس کس مد میں پیسہ کماکرباہر بھجوارہاہے ،یاملک میں غیر قانونی طریقے سے لارہاہے سب کی نشاندہی ہوسکے گی اور ان کے خلاف کاروائی بھی آسان ہوجائیگی ۔

Comments (0)
Add Comment