زرداری کے شریک ملزم کراچی میں روکنے پر تحقیقات

کراچی(رپورٹ:ارشاد کھو کھر) اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری کے شریک ملزمان حسین لوائی اور عبدالغنی مجید کو اڈیالہ جیل واپس نہ بھیجنے کی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں ۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کرکے14دسمبر تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ملزمان کے اثر و رسوخ کے توڑ کیلئے ایف آئی اے کی جانب سےمنی لانڈرنگ کیس بھی اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست پیش کر سکتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق مقدمے کی دارالحکومت منتقلی کا امکان بڑھ گیا ہے ۔دونوں ملزمان کو بینکنگ کورٹ کراچی میں6دسمبر کو ہونے والی سماعت کیلئے اڈیالہ جیل سے کراچی لایا گیا تھا ۔بغیر کسی اطلاع کے قیدی واپس نہ بھیجنے کے عمل نے محکمہ داخلہ پنجاب و اڈیالہ جیل کی انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی۔ملیر جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ نے حسین لوائی اور عبدالغنی مجید کے ملیر جیل میں ہونے کی تصدیق کر دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری کے شریک ملزمان حسین لوائی اور عبدالغنی مجید کو اڈیالہ جیل واپس نہ بھیجنے کی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں ۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کرکے14دسمبرتک رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔سپریم کورٹ کے حکم پر اربوں کی منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس میں گرفتار اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے بیٹے عبدالغنی مجید عرف اے جی مجید اورسمٹ بینک کے سابق صدرحسین لوائی کو سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔دونوں قیدیوں کو 6دسمبر کو کراچی کی بینکنگ کورٹ نمبر تھری میں کیس کی سماعت کے موقع پر پیش کرنے کے لئے محکمہ داخلہ سندھ نے محکمہ داخلہ پنجاب اور جیل سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل راولپنڈی کو خط بھیجا تھا۔دونوں قیدیوں کو بذریعہ طیارہ کراچی منتقل کیا گیا تھا ۔بینکنگ کورٹ تھری نے سماعت کے بعد دونوں ملزمان کو واپس نہ بھیجنے ،ملیر جیل میں رکھنے اور 10 دسمبر کو اگلی سماعت کیلئے پیش کرنے کا حکم دیا تھا ۔ اس حکم کی نقول محکمہ داخلہ پنجاب ، آئی جیل خانہ جات پنجاب ، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل راولپنڈی کو بھی بھیجی گئیں ، یہ احکامات پنجاب میں حکام کو موصول نہ ہوئے۔بینکنگ کورٹ تھری کی جانب سے ملزمان کو کراچی میں رکھنے کے حکم کے بعد کراچی پہنچنے پر ملزمان کو تحویل میں لینے والی ملیر جیل کی انتظامیہ دونوں کو اپنے ساتھ لے گئی۔‘‘امت ’’کو ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کے واپس نہ جانے کے معاملے سے سندھ کا محکمہ داخلہ عملاً بے خبر رہا۔اگلے روز ملزمان کے واپس نہ پہنچنے پر اڈیالہ جیل کی انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ، جس نے فوری طور پر محکمہ داخلہ پنجاب سے رجوع کیا تو وہ بھی معاملے سے بے خبر نکلا ، کیونکہ اسے بھی قیدیوں کو واپس نہ بھیجنے سے متعلق محکمہ داخلہ سندھ کا کوئی لیٹر نہیں ملاتھا ۔پنجاب و سندھ کے محکمہ داخلہ کے حکام کے رابطوں کے بعد محکمہ داخلہ سندھ نے محکمہ جیل خانہ جات سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ دونوں قیدی ملیر جیل میں ہیں اور انہیں بینکنگ کورٹ نے 10دسمبر تک ملزمان کو واپس نہ بھیجنے کا حکم دیدیا ہے۔دونوں قیدیوں کو ایف آئی اے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے ان کے سندھ میں اثر و رسوخ کے خاتمے کیلئے کراچی سے پنجاب کی جیل میں منتقل کرنے کا حکم دیاتھا۔ایف آئی اے کا موقف تھا کہ قیدیوں کو کراچی کے جیل میں مراعات حاصل ہیں اور وہ اسی وجہ سے جے آئی ٹی کی تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے۔ذرائع نے بتایا کہ محکمہ داخلہ سندھ نے قیدیوں کی ملیر جیل میں موجودگی کے بارے میں محکمہ داخلہ پنجاب کو با ضابطہ طور پر آگاہ کر تے ہوئے بتایا کہ قیدیوں کو بینکنگ کورٹ کے حکم پر اگلی سماعت تک روکا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سماعت ختم ہونے کے بعد دونوں ملزمان کو بروقت اڈیالہ جیل منتقل نہ کئے جانے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے 14دسمبر تک انکوائری رپورٹ طلب کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کو بر وقت اڈیالہ جیل منتقل نہ کرنے کے معاملے کی انکوائری شروع ہو گئی ہے۔ حکومت سندھ کے اعلیٰ سطح کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بینکنگ کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دونوں قیدی واپس اڈیالہ جیل نہیں بھیجے گئے۔سپریم کورٹ نے عبدالغنی مجید اور حسین لوائی کے علاوہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کو بھی قومی ادارہ امراض قلب سے پمز اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔این آئی سی وی کے متعلقہ ڈاکٹر کی جانب سے عدالت کو یہ رپورٹ بھیجی گئی کہ انور مجید ہوائی سفر کرنے کے بھی قابل نہیں۔ منتقلی جان لیوا ہوسکتی ہے ۔ انور مجید کو بستر سے نیچے اتر نے کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔اسی رپورٹ کی وجہ سے انور مجید کی منتقلی رکی ہوئی اور وہ گزشتہ سماعت کے موقع پر بھی پیش نہیں ہوئے ۔
٭٭٭٭٭
راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی احتساب بیورو نے سابق صدر آصف زرداری اور ان کے بیٹے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری کو پارک انکلیو کیس میں13 دسمبر کو طلب کر لیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب راولپنڈی نے بلاول زرداری کو نجی کمپنی پارک انکلیو کے شیئر ہولڈر کی حیثیت میں بلایا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ نے نیب کے نوٹس کے بعد قانونی ٹیم سے مشاورت شروع کر دی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گے بلکہ ان کی جگہ معروف قانون دان فاروق ایچ نائیک کے پیش ہونے کا امکان ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے پارٹی سربراہ کی نیب میں طلبی کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ نیب نے بلاول کو جس کمپنی کے کیس میں طلب کیا ،اس کے قیام کے وقت بلاول کی عمر ایک سال سے بھی کم تھی اور اس وقت وہ کمپنی کے کم عمر ترین شیئر ہولڈر تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیب کے اقدام کا مقصد پیپلز پارٹی کی قیادت پر دباؤ ڈالنا ہے۔فرحت اللہ بابر نے مزید کہا کہ شکریہ نیب مزید ایسے کام کر کے خود ہی اپنے آپ کو ایکسپوز کر رہی ہے کہ وہ حکومت کا ایک سیاسی بازو ہے۔بلاول کے ترجمان سینیٹر مرتضیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ بلاول کی جگہ وکلا پر مشتمل ٹیم نیب راولپنڈی کے سامنے پیش ہو گی۔ بلاول بھٹو کو بھیجا گیا نوٹس انتہائی مضحکہ خیز ہے۔بلاول سے اس دور کا پوچھا جا رہا ہے جب ان کی عمر ایک برس تھی۔نیب نوٹسز سیاسی انتقام و حکومت مخالفین کو ڈرانے کا حربہ ہیں۔سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران خان چاہتے ہیں ان کیلئے میدان خالی رہے۔عمران خان کو چاہئے کہ وہ مخالفت اور تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھیں۔ایسےنوٹس و مقدمات پی پی قیادت کیلئے نئی بات نہیں۔پہلے بھی ایسے انتقام کا مقابلہ کیا ہے۔پیپلز پارٹی نہ ماضی میں کبھی عوام مسائل سے پیچھے ہٹی ہے اور نہ اب ہٹے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی حکام نے پنجاب فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کی اراضی پارک لین اسٹیٹ(پرائیوٹ)لمیٹڈ کو الاٹمنٹ کی23 مئی کو تحقیقات کی منظوری دی تھی۔یہ کمپنی آصف زرداری، بلاول اور دیگر کے نام پر تھی۔ نیب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے آصف علی زرداری سے کمپنی کی تشکیل کے لئے درکار وسائل کے بارے میں سوالات کئے جائیں گے۔بلاول سےکمپنی کے شیئرز خریدنے کیلئے درکار فنڈز کے بارے میں استفسار ہوگا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے پیش نظر13دسمبر کو دورہ لاہور ملتوی کر دیا ہے۔

Comments (0)
Add Comment