بریگزٹ ڈیل مستردہونے سے تھریسامے کی کرسی خطرے میں

لندن(امت نیوز )برطانوی دارالعوام نے منگل کو یورپی یونین سے اخراج کا منصوبہ مسترد کر کے وزیر اعظم تھریسا مے کی کرسی کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔یورپی یونین سے اخراج کے برطانوی منصوبے کیلئے رائے شماری میں 432 ارکان نے حصہ لیا ۔ان میں سے 230 نے مخالفت میں ووٹ ڈالا جبکہ اس کے حق میں صرف 202 ووٹ آئے ۔ برطانوی پارلیمنٹ میں آج تک کسی بھی وزیر اعظم کو ہونےوالی یہ بد ترین شکست ہے۔ اس سے قبل95برس قبل 1924 میں لیبر پارٹی کی حکومت کو 166 ووٹوں کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔تاریخ کی بدترین شکست سے دوچار ہونے کے باوجود تھریسا مےنے اقتدار نہ چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔تھریسا مے منصوبے کے حق میں اپنی پارٹی کے ارکان کو اپنا ہمنوا نہ بنا سکیں ۔کنزوریٹو پارٹی کے باغیوں اور یورپی یونین میں رہنے کے خواہش مند اراکین کے علاوہ ڈیمو کریٹک یونین پارٹی ،لیبر پارٹی ، لبرل ڈیموکریٹس نے مل کر تھریسا مے کا منصوبہ خاک میں ملا دیا ۔اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے قائد جرمی کوربن نے تھریسامے کو مزید دھچکا پہنچاتے ہوئے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان بھی کردیا ہے ۔یورپی یونین نے فیصلے کو دھچکا قرار دیا ہے ۔مبصرین کا کہناہے کہ برطانوی اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی جرمی کوربن کو وزیر اعظم قبول کرنے سے انکار کر چکی ہے، ایسے میں تھریسا مے کے مستعفی ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ پارلیمنٹ میں ہونے والی بدترین شکست کے بعد پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے فیصلے پر عمل کریں گی لیکن اقتدار نہیں چھوڑیں گی ۔اراکین کی جانب سے منصوبہ مسترد کئے جانے کے بعد یورپی یونین سے نہ نکلنے کے حامیوں کی بڑی تعداد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جمع تھی جنہوں نے فیصلہ سامنے آنے کے بعد جشن منانا شروع کر دیا ۔
٭٭٭٭٭

Comments (0)
Add Comment