سانحہ چکرا گوٹھ-رئیس مما سمیت11متحدہ دہشت گردوں پر فرد جرم عائد

کراچی(اسٹاف رپورٹر) انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے چکرا گوٹھ حملہ کیس میں بدنام زمانہ ٹارگٹ کلررئیس مما سمیت 11 متحدہ دہشت گردوں پر فرد جرم عائد کردی ۔ ملزمان کے صحت جرم سے انکار پر عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو طلب کرلیا۔ منگل کے روزسینٹرل جیل میں انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں چکرا گوٹھ حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔ جیل حکام کی جانب سے ایم کیو ایم کے ہائی پروفائل ٹارگٹ کلر رئیس مما، عمران لمبا ، انعام الحق، راحیل، آصف اقبال اور عمر جاوید سمیت 11دہشت گردوں کو پیش کیا گیا۔ دوران سماعت عدالت کی جانب سے ملزمان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی ۔عدالت کے استفسار پر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔استغاثہ کے مطابق ایم کیو ایم کے تنظیمی کمیٹی کے سابق انچارج حماد صدیقی سمیت 5ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔ پولیس کے مطابق سابق سیکٹر انچارج رئیس مما نے کورنگی میں اپنی دہشت اور اجارہ داری قائم رکھنے کیلیے چکرا گوٹھ میں فائرنگ کی۔ فائرنگ سے پولیس اہلکاروں سمیت معتدد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ملزم رئیس مما نے عدالت میں اعتراف جرم کیا تھا۔ عینی شاہدین نےبھی شناخت کیا ہے۔ ملزمان کیخلاف 2011 میں تھانہ زمان ٹاؤن میں مقدمات درج کیا گیا۔دریں اثناسندھ ہائیکورٹ نے دھماکہ خیز مواد کے الزام میں ماتحت عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف مبینہ را ایجنٹ و ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر ریاض عرف لکڑ کی جانب سے اپیل پر مجرم کا جیل میں گزارا ہوا عرصہ سزا میں شمار کرتے قرار دیا ہے کہ اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں ملوث نہ ہو تو اس کو جیل سے رہا کردیاجائے۔منگل کوجسٹس آفتاب احمد گوڑر کی سر براہی میں2رکنی بنچ نے دھماکہ خیز مواد کے الزام میں ماتحت عدالت سے ملنے والی سزا و دیگر جرمانے کے خلاف مبینہ را کے ایجنٹ و ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر ریاض عرف لکڑ کی جانب سے اپیل پرمحفوظ کیا جانے والا فیصلہ سنایا۔قبل ازیں درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ملزم ریاض عرف لکڑ کو رینجرز نے2015میں گارڈن سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا الزام تھا کہ ریاض لکڑ کا تعلق ایم کیوایم ہے اور یہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کےلیے کام کرتا تھا۔ ریاض لکڑ سے پولیس نے گرنیڈ برآمدگی کا مقدمہ درج کیا تھا، جس پرانسداد دہشت گردی عدالت نے ریاض عرف لکڑ کو 5سال کی سزا سنائی تھی، لہٰذا استدعا ہے کہ ماتحت عدالت کی سزا و دیگر جرمانے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بری کیا جائے۔

Comments (0)
Add Comment