امریکہ نے شام میں ترک محفوظ زون کی حمایت کردی

انقرہ(امت نیوز)ترک صدر رجب طیب اردوغان نے شام کے شمالی علاقے میں20میل طویل محفوظ زون بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے کی ٹرمپ نے حمایت کر دی ہے ۔محفوظ زون بنانے کیلئے ترکی کو دیگر اتحادیوں سے مالی تعاون درکار ہے۔پارلیمنٹ میں حکمران جماعت کے اراکین سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ زون کی تعمیر سے دہشت گرد دور ہوں گے ،شہریوں کو تحفظ ملے گا اور مہاجرین کا انخلا روکا جائے گا۔اس سے قبل ترک صدر کا امریکی صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا، جس کا مقصد ترکی سے متعلق امریکی صدر کی متنازع ٹویٹ سے پیدا ہونے والی صورت حال کو ٹھیک کرنا تھا۔ ٹرمپ نے2روز قبل ترکی کو دھمکی دی تھی کہ اگر انقرہ کے فوجیوں نے وائی پی جے ملیشیا پر حملہ کیا تو وہ ترکی کیخلاف تباہ کن معاشی پابندیاں لگا دیں گے ۔ ٹرمپ کی دھمکی نے ترکی میں سرمایہ کاری کو شدید دھچکا پہنچایا اور ایک دن میں ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر 1.6فیصد گرگئی تھی۔ ترک صدر کا کہنا ہے کہ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران وہ اور امریکی صدر تاریخی مفاہمت پر متفق ہو ئے اور ہم میں معاشی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔شام میں محفوظ زون بنانےکا ترک اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام کیلئے اقوام متحدہ کے نئے نمائندے گیئر پیڈرسن رواں ماہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورے پر دمشق میں ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ بشار الاسد حکومت سے مفید مذاکرات کیلئے پر امید ہیں ۔ شامی حکام کا کہنا ہے کہ اگر پیڈرسن نے اپنے پیشرو کےبرعکس شام کی سرحدی خود مختاری کو تسلیم کیا تو وہ اس سے تعاون کریں گے ۔ناروے کےپیڈرسن 1993میں فلسطین و اسرائیل کے درمیان ہونے والے اوسلو معاہدے میں ناروے کے وفد کا حصہ رہے ہیں۔ادھر ترکی میں فتح اللہ گولن کے مزید 192فوجیوں کی گرفتارکر لیا ہے ۔ استنبول اور انقرہ میں تابڑ توڑ چھاپوں میں گرفتار افراد میں 3لیفٹیننٹ اور 47سارجنٹس شامل ہیں ۔ان تمام افراد کا سراغ فتح اللہ گولن کی تحریک کی ممنوعہ ایب بائی لاک استعمال کرنے سے ملا ،50افراد کا تعلق قونیہ سے ہے۔فتح اللہ گولن کا حامی ہونے کے الزام میں ترک حکومت نے 77ہزار سے زائد افراد کو جیل میں ڈال رکھا ہے ۔

Comments (0)
Add Comment