سندھ اسمبلی میں کنٹرول آبادی قرارداد منظور ۔مجلس عمل ۔تحریک لبیک مخالف

کراچی (رپورٹ: رفیق بلوچ) سندھ اسمبلی نے منگل کو پرائیویٹ ممبر ڈے پر متحدہ کی خاتون رکن رعنا انصار کی کنٹرول آبادی کے حوالے سے قرار داد ترمیم کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کر لی ۔مجلس عمل کے عبدالرشید اور تحریک لبیک کے مفتی قاسم فخری نے قرار داد کی مخالفت کی تاہم رائے شماری کے دوران وہ ایوان میں موجود نہیں تھے جبکہ پی پی متحدہ ۔تحریک انصاف اور جی ڈی اے کے اراکین نے قرار داد کی مکمل حمایت کی۔ قبل ازیں ایوان نے رابعہ اظفر نظامانی کے بل 2018سندھ نشہ آور اشیاء پر ضابطہ (ترمیم) اور رعنا انصار کے بل سندھ پانی مینجمنٹ (ترمیم) پیش کرنے کی اجازت دیدی جبکہ پی پی کی رکن اسمبلی ہیرسوہو نے اپنی تحریک التواء واپس لے لی ۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت ایک گھنٹہ 45منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اسپیکر نے کارروائی شروع کرنے سے پہلے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ وقت پر ایوان میں آئیں تاکہ اجلاس وقت پر شروع ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں آدھے لوگ چھٹی پر ہیں اور ایسے بھی ارکان ہیں جو حلف اٹھانےکے بعد ایوان میں نہیں آئے۔ انہوں نے بعض اراکین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ذاتی رنجش ایوان میں نکالنے کے بجائے اسمبلی گیٹ کے باہر جلسہ کریں وہاں اپنے غصہ اتاریں ایوان کا ماحول خراب نہ کیا کریں۔ ایوان کی کارروائی براہ راست ٹیلی کاسٹ ہوتی ہے ایسی حرکتوں سے عوام کی رائے ایوان کے بارے میں منفی ہورہی ہے ۔متحدہ خاتون رکن رعنا انصار نے اپنی قرار داد ایوان میں پیش کی۔ پارلیمانی امور کے وزیر نے قرار داد کی حمایت کی۔ اسپیکر نے محرک کو اظہار خیال کی دعوت دی انہوں نے کہا کہ ملک میں آبادی کی شرح جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کے مقابلے میں ہمارے وسائل کم ہورہے ہیں جس سے بہت سے خطرات رونما ہورہے ہیں ۔ ہماری آبادی غربت میں چلی گئی ہے اس پر قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ وزیراعلیٰ نے صوبے کی ٹاسک فورس بنائی ہے لیکن اس کیلئے آگاہی مہم بہت ضروری ہے تاکہ آبادی کیلئے منصوبہ بندی کرسکیں۔ متحدہ کے محمد حسین نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی رولنگ بھی آچکی ہے۔ انہوں نے چین، بھارت اور بنگلہ دیش کی مثال پیش کی کہ ہم بڑی آبادی والے ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ ہم بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کریں۔ مجلس عمل کے سید عبدالرشید نے قرار داد کی مخالفت کی اور کہا کہ ہمیں فطرت اور قدرت کے قوانین سے تصادم سے گریز کرنا چاہئے ۔ انہوں نے جاپان کی مثال پیش کی کہ وہاں آبادی کو کنٹرول کرنے کے بعد مسائل سامنے آئے ہیں انہیں نوجوانوں کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں لوگوں کی بنیادی ضرورت کو فراہم کرنا چاہئے ۔ تحریک لبیک کے مفتی قاسم فخری نے قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کو رزق دینے والا اللہ کی ذات ہے وہ پیدا کرتا ہے ۔ انسانوں کو اس معاملے میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہئے ۔ پی پی خاتون رکن شہلا رضا نے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس قرار داد میں ایک ترمیم کی جائے آبادی کو کنٹرول کے بجائے پلاننگ کا لفظ استعمال کریں۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیجوہو ، کلثوم چانڈیو، شہزاد قریشی، نصرت سحر عباسی اور حلیم عادل شیخ نےبھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اسپیکر نے قرار داد پر رائے شماری کرائی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا جبکہ مجلس عمل کے عبدالرشید اور تحریک لبیک کے مفتی قاسم فخری ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس آج (بدھ )صبح 10 بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا۔

Comments (0)
Add Comment