گرین لائن کیلئے بسیں فراہم کرنے سے سندھ انکاری

کراچی(رپورٹ:نواز بھٹو) وفاق کے شروع کردہ گرین لائن منصوبے کیلئے بسوں کی فراہمی کے وعدے سے سندھ حکومت مکر گئی۔ 77فیصد کام مکمل ہونے کے باوجود تاحال کوئی ٹینڈر طلب نہیں کیا گیا۔صوبے نے ذمہ داری وفاق پر ڈال دی ،جب کہ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ کیلئے بسیں سندھ حکومت نے فراہم کرنی تھیں۔تفصیلات کے مطابق پی پی حکومت پچھلے 11 سالہ دور اقتدار میں کراچی کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ کا بڑا منصوبہ دینے میں ناکام رہی ہے اور اس وقت بھی ناقص حکمت عملی کے باعث ریڈ لائن، یلو لائن اور ٹرانسپورٹ کے دیگر منصوبے التوا کا شکار ہیں۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے بڑھتےہوئے مسائل کے پیش نظر 2016 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے گرین لائن منصوبے کا افتتاح کیا اور اعلان کیا کہ وفاق منصوبے کا مکمل انفرااسٹرکچربنائے گا ،جب کہ سندھ حکومت نے بسیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔منصوبہ ایک برس میں مکمل ہونا تھا ،لیکن عالمی بنک کے اعتراضات کے باعث 2 مرتبہ ڈیزائن میں تبدیلی سے التوا کا شکار ہوا اور اب ایک بار پھر بسوں کی فراہمی کے معاملے پرسندھ حکومت نے روڑے اٹکانا شروع کر دئیے ہیں۔ بسوں کی فراہمی کے معاملے پر گورنر سندھ عمران اسماعیل واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ بسوں کی فراہمی حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے ۔ جمعرات کو اس سلسلے میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ 21 کلومیٹر طویل گرین لائن منصوبے پر 77 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ،تاہم بسوں کی خریداری کا ٹینڈر بھی تک طلب نہیں کیا گیا ہے۔ اجلاس میں میئر کراچی وسیم اختر، میئر سکھر ارسلان اسلام شیخ ،سیکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ اختر غوری اور دیگر حکام شریک تھے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی انفراسٹریکچر ڈویلپمنٹ کمپنی وفاقی ادارہ ہے ،جس نے کہاتھا کہ 15دسمبر کو گرین لائن میٹروبس کا ٹریک سندھ حکومت کے حوالے کردینگے لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور کچھ دریافت کرنے کی غرض سے خط لکھیں تو جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بسوں کی فراہمی کے لئے وفاقی حکومت کو متعدد مرتبہ خطوط لکھے ہیں ،لیکن وہاں سے بھی جواب نہیں دیا جاتا۔اس موقع پر مئیرکراچی اور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کے درمیان مکالمہ بھی ہوا۔اویس قادر کا کہنا تھا کہ ہم سے وعدہ کیاگیا ہے کہ وفاقی حکومت گرین لائن میٹرو منصوبے کے لیے بسیں فراہم کرے گی ،جس پر میئر وسیم اختر نے کہا کہ آپ انتظار کرتے رہیں ،مجھے تو یہی اطلاع ہے کہ وفاق بسیں نہیں دے رہا۔ ڈی جی ماس ٹرانزٹ نے بتایا کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ کراچی میں گرین لائن میٹرو کے لیے بسیں فراہم کرنے کا اعلان کیاتھا لیکن اب وزیر اعظم ہاؤس میں اس معاملے پر خاموشی چھائی ہوئی ہے اور کوئی بھی محکمہ ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ڈی جی ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو ہدایت کی گئی کہ وہ حکومت سندھ اور میئر کراچی کی طرف سے مکمل اختیار کے ساتھ وفاقی حکومت سے رابطہ کرے اور حتمی طور پر معلوم کیا جائے کہ وفاقی حکومت کا بسوں کی فراہمی پر کیا موقف ہےجبکہ میئر آفس سے بھی خط ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Comments (0)
Add Comment