سندھ میں رہائشی پلاٹس کی کمرشلائزیشن پر عائد 7 سالہ پابندی ختم، نیا فیس فارمولا نافذ

سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی نے پابندی منسوخ کر دی، شہر کی 26 اہم شاہراہوں پر اجازت ہوگی۔

August 30, 2026 · قومی
سندھ میں رہائشی پلاٹس کی کمرشلائزیشن پر عائد 7 سالہ پابندی ختم، نیا فیس فارمولا نافذ

سندھ میں رہائشی پلاٹس کی کمرشلائزیشن پر عائد 7 سالہ پابندی ختم، نیا فیس فارمولا نافذ

کراچی (میڈیا) سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلوں کی روشنی میں سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی نے صوبے بھر میں رہائشی پلاٹس کو تجارتی مقاصد کے لیے تبدیل کرنے پر 2019 سے عائد پابندی کا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی انفرا اسٹرکچر فیس کی تقسیم کا نیا فارمولا بھی باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے سینئر ڈائریکٹر شکیل صدیقی کے مطابق پابندی ختم ہونے کا مطلب تمام پلاٹس کا خود بخود کمرشل ہونا نہیں ہے، بلکہ لینڈ یوز میں تبدیلی کے لیے زوننگ رولز، ماسٹر پلان اور مجاز اتھارٹی سے باقاعدہ این او سی اور منظوری لازمی ہوگی۔

فیصلے کے تحت شاہراہِ فیصل، راشد منہاس روڈ، یونیورسٹی روڈ، طارق روڈ، شہید ملت روڈ، شاہراہِ پاکستان اور خالد بن ولید روڈ سمیت شہر کی 26 اہم شاہراہوں پر کمرشلائزیشن کی اجازت ہوگی۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا ہے کہ پارک، اسپتال، اسکول، مساجد، پلے گراؤنڈز اور قبرستان جیسے رفاہی پلاٹس کو کسی صورت تجارتی یا رہائشی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ محکمہ بلدیات و ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ کے نوٹیفکیشن کے مطابق لینڈ یوز کی تبدیلی پر وصول ہونے والی انفرا اسٹرکچر فیس کی تقسیم کے لیے نیا طریقہ کار نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت کراچی ڈویژن اور ضلع حیدرآباد میں وصول ہونے والی فیس کا 45 فیصد حصہ متعلقہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کو، 25 فیصد سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کو، 20 فیصد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو اور 10 فیصد حصہ میٹروپولیٹن یا میونسپل کارپوریشن کو ملے گا۔

دیگر ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز جن میں سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد شامل ہیں، وہاں شہری علاقوں میں فیس کی تقسیم کراچی اور حیدرآباد کے پیٹرن پر ہوگی جبکہ جن علاقوں میں کارپوریشن کا دائرہ اختیار نہیں، وہاں کل فیس کا 75 فیصد متعلقہ میونسپل کمیٹی، ٹاؤن کمیٹی یا ڈسٹرکٹ کونسل کو اور 25 فیصد ماسٹر پلان اتھارٹی کو منتقل ہوگا۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز یعنی آباد کے چیئرمین حسن بخشی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بڑی راحت ملی ہے، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور عام خریداروں کے لیے اختیارات میں اضافہ ہوگا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ بے دردی سے کمرشلائزیشن کے بجائے انفرا اسٹرکچر، پانی اور ٹریفک کے نظام کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کی جائے۔