عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی سے متعلق عدالتی فیصلہ جاری
عمران خان کو اپنے بچوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے رابطے کی اجازت ہوگی۔عدالتی فیصلہ
فائل فوٹو
اسلام آباد: عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی سے متعلق عدالتی فیصلہ جاری کردیا گیا ہے، جس میں دونوں کو قانون اور جیل قواعد کے مطابق مختلف سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان کو اپنے بچوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے رابطے کی اجازت ہوگی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر ان رابطوں کو سیاسی سرگرمیوں یا کسی دوسرے غیرمجاز مقصد کیلئے استعمال کیا گیا تو یہ سہولت واپس لی جاسکتی ہے۔
فیصلے میں جیل انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان کی اہلِ خانہ اور اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقاتیں جیل قوانین اور فیملی میٹنگ سے متعلق قواعد کے مطابق یقینی بنائی جائیں۔
عدالت نے عمران خان کو روزانہ ایک گھنٹے واک کی اجازت دینے کا بھی حکم دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق واک کے دوران ان کے انسانی میل جول کا انتظام کیا جائے گا جبکہ جن افراد سے ان کی ملاقات یا رابطہ ہوگا، ان کا ریکارڈ بھی رکھا جائے گا۔
عدالتی حکم میں عمران خان کو تاریخ کی کتابوں سمیت جیل قوانین کے تحت قابلِ اجازت دیگر مطالعاتی مواد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ تاہم ممنوعہ کتب فراہم نہیں کی جائیں گی۔
فیصلے میں بشریٰ بی بی کیلئے بھی اسی نوعیت کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہیں بھی قانون اور جیل قواعد کے مطابق اپنے خاندان سے ملاقات کی اجازت ہوگی۔
عدالت نے قرار دیا کہ جیل میں قید تمام افراد کو آئین، قانون اور متعلقہ جیل قوانین کے تحت حاصل حقوق اور سہولیات فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔