پاکستان کو بین الاقوامی ہائی رسک میری ٹائم ایریاز کی فہرست سے خارج کردیا گیا

بحرین، جبوتی، کویت، عمان اور قطر سمیت پاکستان کے ساحلی علاقوں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا تھا۔

September 2, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

 اسلام آباد: پاکستان کو بین الاقوامی ہائی رسک میری ٹائم ایریاز کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے، جسے ملک کی بحری تجارت اور علاقائی سمندری روابط کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جوائنٹ وار کمیٹی نے 3 مارچ 2026 کو ہائی رسک میری ٹائم علاقوں کی فہرست میں توسیع کرتے ہوئے بحرین، جبوتی، کویت، عمان اور قطر کو اس فہرست میں شامل کیا تھا۔ اسی توسیع کے دوران پاکستان کے ساحلی علاقوں کو بھی ہائی رسک میری ٹائم زون قرار دیا گیا تھا۔

ہائی رسک میری ٹائم علاقوں میں شامل ہونے والے بحری راستوں پر سفر کرنے والے جہازوں کو جنگ، دہشت گردی اور دیگر سمندری خطرات کے باعث اضافی انشورنس تقاضوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے بحری تجارت کے اخراجات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

پاکستان نے اضافی اخراجات کے پیش نظر ہائی رسک فہرست سے اپنا نام نکلوانے کے لیے کوششیں شروع کیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیرِ بحری امور کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے لائیڈز حکام کے ساتھ اس معاملے پر مذاکرات کیے۔

مذاکرات کے دوران پاکستانی حکام نے ملک کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق تکنیکی شواہد اور ڈیٹا پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کے علاقائی پانیوں کو ہائی رسک میری ٹائم ایریا میں برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں۔

پاکستانی مؤقف اور فراہم کردہ شواہد کے بعد جوائنٹ وار کمیٹی نے پاکستان اور اس کے علاقائی پانیوں کو بین الاقوامی ہائی رسک میری ٹائم ایریاز کی فہرست سے خارج کردیا۔

پاکستان کے اخراج کے بعد پاکستانی بندرگاہوں پر آنے والے بحری جہازوں کو ہائی رسک کیٹیگری سے منسلک اضافی وار رسک انشورنس کے تقاضوں کا سامنا نہیں ہوگا۔

حکام کے مطابق اس فیصلے سے پاکستان کی بحری تجارت کو سہولت ملنے کے ساتھ سمندری نقل و حمل کے اخراجات میں کمی کی راہ ہموار ہوگی، جبکہ علاقائی رابطوں اور ٹرانز شپمنٹ سرگرمیوں کے فروغ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان کا ہائی رسک میری ٹائم فہرست سے اخراج ملک کے بحری شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے مثبت اثرات پاکستانی بندرگاہوں اور بین الاقوامی بحری تجارت پر مرتب ہونے کی توقع ہے۔