نیپرا نے 47 ارب ڈالر کے بجلی منصوبے کی منظوری دے دی

نئے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں پر تقریباً 47.13 ارب ڈالر جبکہ ترسیلی نظام میں توسیع اور بہتری کے لیے مزید 10.65 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

September 12, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیپرا نے 2035 تک پاکستان کی بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 47 ارب ڈالر مالیت کے بجلی توسیعی منصوبے کی منظوری دے دی ہے، تاہم بعض اہم تجاویز پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔

ریگولیٹر نے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کی جانب سے پیش کیے گئے مربوط نظام منصوبہ 2025 تا 2035 کی منظوری دی۔ منصوبے میں بجلی پیدا کرنے کی نئی صلاحیت کے ساتھ ملک کے ترسیلی نظام کو وسعت دینے اور اپ گریڈ کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔

منصوبے کے مطابق پاکستان میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 2025 کے تقریباً 26 ہزار 950 میگاواٹ سے بڑھ کر 2035 میں 35 ہزار 521 میگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس اضافی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مجموعی طور پر 26 ہزار 45 میگاواٹ نئی پیداواری صلاحیت درکار ہوگی۔

اس میں 17 ہزار 485 میگاواٹ پہلے سے مختص منصوبوں جبکہ 8 ہزار 560 میگاواٹ نئی تجویز کردہ صلاحیت پر مشتمل ہوگی۔ دوسری جانب تقریباً 2 ہزار 577 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے مرحلہ وار ریٹائر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

نئے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں پر تقریباً 47.13 ارب ڈالر جبکہ ترسیلی نظام میں توسیع اور بہتری کے لیے مزید 10.65 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

نیپرا نے تقریباً 90 کروڑ ڈالر مالیت کے بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی تجویز کو فی الحال مسترد کردیا۔ ریگولیٹر کے مطابق اس سرمایہ کاری کو ادارے کے بجلی نظام کو بہتر بنانے والے ماڈل میں مناسب طریقے سے شامل کرکے جانچا نہیں گیا۔ نیپرا نے مکمل تکنیکی مطالعہ کرانے کے بعد اس معاملے پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ریگولیٹر نے کے الیکٹرک کے لیے این جی سی اور کے ای ایل کے درمیان مجوزہ ترسیلی لائن کو 2028 تک مکمل کرنے کی تجویز پر بھی اتفاق نہیں کیا۔ نیپرا کے مطابق اتنے بڑے منصوبے کی تکمیل کے لیے تقریباً پانچ سال درکار ہوتے ہیں، اس لیے مقررہ مدت حقیقت پسندانہ نہیں۔

فیصلے میں بجلی کے منصوبہ ساز ادارے کو آئندہ منصوبہ بندی میں موجود بعض خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ ان میں اعداد و شمار کی مزید وضاحت اور بجلی کے نرخوں سے متعلق پیش گوئیوں میں موجود تضادات ختم کرنا شامل ہے۔

نیپرا کے ارکان کی جانب سے بھی منصوبے کے بعض پہلوؤں پر اختلاف سامنے آیا۔ رکن مقصود انور خان نے چند پن بجلی منصوبوں کو منصوبے سے خارج کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ پہلے منظور اور محفوظ قرار دیے گئے منصوبوں کو واضح قانونی یا انتظامی جواز کے بغیر نکالنے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب رکن امینہ احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں سستی قابل تجدید بجلی کو منصوبہ بندی میں شامل نہ کیے جانے پر سخت تحفظات ظاہر کیے۔ ان کے مطابق کے الیکٹرک کی 2024 کے آخر میں ہونے والی قابل تجدید توانائی کی نیلامی میں بجلی کے نرخ 3.09 امریکی سینٹ فی یونٹ تک سامنے آئے تھے، جو ملک میں اب تک کے کم ترین نرخوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق تقریباً 640 میگاواٹ کے ایسے منصوبے ایک سال سے زیادہ عرصے تک منصوبہ بندی میں شامل نہیں کیے گئے، حالانکہ نیپرا کی جانب سے اس معاملے پر متعدد مرتبہ توجہ دلائی گئی تھی۔

امینہ احمد نے کہا کہ بعد میں اعداد و شمار درست کیے گئے تو معلوم ہوا کہ ان سستے منصوبوں کو شامل کرنے سے بجلی نظام کی مجموعی لاگت بڑھنے کے بجائے کم ہوئی۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے بجلی نظام کی منصوبہ بندی اور بہتر ترین حل تلاش کرنے کے طریقہ کار پر سوالات پیدا کیے ہیں۔

دوسری جانب مختلف کاروباری حلقوں، منصوبہ سازوں اور صوبائی حکومتوں نے بھی نئے منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی 15 سے 20 ہزار میگاواٹ اضافی پیداواری صلاحیت موجود ہے، جبکہ کئی بجلی گھر اپنی مجموعی صلاحیت کے تقریباً 45 فیصد پر چل رہے ہیں۔

متعلقہ حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید پیداواری منصوبوں میں سرمایہ کاری سے گردشی قرضے اور بجلی گھروں کو دی جانے والی صلاحیت کی ادائیگیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کا بالواسطہ بوجھ صارفین کے بجلی بلوں پر پڑے گا۔

نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار نے حتمی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے بجلی کے شعبے میں ایک بنیادی مسئلے کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق پاکستان ایسی پیداواری صلاحیت کی ادائیگی کررہا ہے جس کی اسے مکمل ضرورت نہیں، اور یہی صورتحال بجلی کے نرخوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دن کے اوقات میں قومی گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہوکر تقریباً 12 ہزار میگاواٹ رہ گئی ہے، کیونکہ صارفین تیزی سے شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع کی جانب منتقل ہورہے ہیں۔

یوں نیپرا کی جانب سے 2035 تک بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے منصوبے کی منظوری تو دے دی گئی ہے، تاہم فیصلے میں سستی بجلی، اضافی پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری کی لاگت اور صارفین پر پڑنے والے ممکنہ مالی بوجھ سے متعلق اہم سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔