راولپنڈی میں ٹریفک وارڈن کی موجودگی میں وکیل کے موٹر سائیکل سوار پر تشدد کی ویڈیو وائرل، سی ٹی او نے نوٹس لے لیا
راولپنڈی کے علاقے صدر میں پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے پر سی ٹی او نے ٹریفک وارڈن کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
راولپنڈی میں ٹریفک وارڈن کی موجودگی میں وکیل کے موٹر سائیکل سوار پر تشدد کی ویڈیو وائرل، سی ٹی او نے نوٹس لے لیا
راولپنڈی کے علاقے صدر میں لگژری گاڑی میں سوار وکیل کی جانب سے ٹریفک وارڈن کی موجودگی میں موٹر سائیکل سوار پر تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سی ٹی او راولپنڈی فرحان اسلم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ٹریفک وارڈن کو شوکاز نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل سوار نے مبینہ طور پر مختلف مقامات پر وکیل کی گاڑی کو ٹکر مار دی۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈیوٹی ختم کر کے پولیس لائن جانے والا ایک ٹریفک وارڈن بھی موقع پر موجود ہے جبکہ گاڑی میں سوار وکیل موٹر سائیکل سوار پر ہاتھ اٹھا رہے ہیں۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وکیل مہران اعجاز انور چوہدری کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ صدر میں موجود تھے جب موٹر سائیکل سوار نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی گاڑی کے دروازے پر زوردار ٹکر ماری جہاں بچے سوار ہو رہے تھے۔ ان کے مطابق ٹریفک جام کے دوران اس موٹر سائیکل سوار نے رانگ سائیڈ سے آ کر دوبارہ گاڑی کو ٹکر ماری، جس پر انہوں نے غصے کا اظہار کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایک طرفہ ویڈیو کو حقائق کے برعکس پیش کیا گیا اور موٹر سائیکل سوار کی لاپرواہی سے بچوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوا۔
دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ٹریفک وارڈن ڈیوٹی آف کر کے جا رہا تھا اور اس نے سڑک پر ہجوم دیکھ کر فریقین کو سائیڈ پر کیا۔ واقعے کے بعد دونوں فریقین نے معاملے کو آپس میں سلجھا لیا تھا اور موٹر سائیکل سوار کی جانب سے باضابطہ طور پر کسی کارروائی کے لیے پولیس سے رجوع نہیں کیا گیا۔