کوہاٹ: پولیس لائن کے قریب خودکش دھماکا،21 افراد شہید،7 دہشتگرد جہنم واصل
مسجد کی بیرونی دیوار منہدم ہوگئی، جائے وقوعہ پر گہرا گڑھا پڑ گیا،قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ، 15 شہید، عمارت تباہ
کوہاٹ: پولیس لائن کے قریب خودکش حملے کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت21افراد شہید ،91زخمی ہو گئے، متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے،مقابلے میں7 دہشت گرد مارے گئے۔
دھماکے کے نتیجے میں مسجد کی بیرونی دیوار منہدم ہوگئی اور جائے وقوعہ پر گہرا گڑھا پڑ گیا،قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی، دھماکے کے بعد ایک اور خودکش حملہ آور نے اسپیشل برانچ بلڈنگ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا،15 اہلکار اور 6 شہری شہید ہو گئے۔
آئی جی نے مزید بتایا کہ کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشتگردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی، پولیس اور سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کیا، ابتدا میں دہشتگردوں کے سنائپر کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
ایس پی ٹریفک اکبر شنواری، انسپکٹر ایف آر پی اشتیاق اور 5 سالہ نمازی بچہ بھی شامل ہیں، شہدا کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
زخمیوں کا کوہاٹ کے CMH، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز اور دیگر ہسپتالوں میں علاج جاری ہے، شدید زخمیوں کو پشاور منتقل کردیا گیا۔ پولیس لائن حملے کے زخمیوں کیلئے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق شہدا میں ایس پی ٹریفک اکبر شنواری اور انسپکٹر ایف آر پی اشتیاق بھی شامل ہیں، 5 سالہ نمازی بچہ بھی دھماکے میں شہید ہوگیا۔ شہدا کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے،سرچ آپریشن جاری ہے۔دریں اثنا،غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ، کوہاٹ کی مسجد کے باہر دھماکہ گاڑی میں نصب کیے گئے بم سے ہوا، اس کے بعد پانچ اور دھماکے بھی ہوئے جو موٹرسائیکلزکے ساتھ نصب تھے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی جس کے بعد مسلح شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز سینٹرل پولیس آفس عبد السلام خالد نے بتایا کہ شدت پسندوں کا ہدف پولیس لائنز اور وہاں واقع مسجد تھی، اور جب واقعہ پیش آیا تو نمازِ جمعہ جاری تھی۔
آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے سپیشل برانچ کے قریب خود کو دھماکے سے اُڑایا۔
ترجمان خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق پولیس لائنز مسجد میں دھماکے کے بعد سات مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی جس کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا۔
اُن کے بقول اب تک کی اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار اور سنائپر سمیت چھ دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں اور کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔