خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں ترامیم کی تفصیلات سامنے آگئیں،اختیارات میں بڑی تبدیلیاں
اہم تبدیلیاں، پولیس براہ راست حکومت کو جواب دہ ہوگی، نیا ڈھانچہ تشکیل دے دیا گیا
خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں ترامیم اور صوبائی انتظامی امور سے متعلق اہم اجلاس کا منظر
خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں نئی تبدیلیوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے تحت پولیس کو براہ راست حکومت کے جواب دہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے مطابق نئے مجوزہ قانون کے تحت گریڈ 18 سے اوپر کے افسران کے تقرری اور تبادلے کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا، جبکہ گریڈ 18 تک کے تقرر و تبادلے کا اختیار آئی جی پولیس کے پاس رہے گا۔
دستاویزات کے مطابق پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی بھی وزیراعلیٰ کے پاس ہوگی، جبکہ آئی جی اور 5 سینئر افسران اس بورڈ کے ممبران ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایک نیا آپریشنل بورڈ بھی بنایا جائے گا جس کی سربراہی آئی جی کے پاس ہوگی۔ مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 میں تنازعات کے حل کے لیے ڈی آر سیز کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے پہلے اسے ختم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ پبلک سیفٹی کمیشن اور پولیس کمپلینٹ اتھارٹی کو مزید مضبوط اور فعال بنایا گیا ہے تاکہ پولیس کے اختیارات سے تجاوز کے معاملات میں شکایات سنی جا سکیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت اور حکومتی شخصیات کی جانب سے ان ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے کہا کہ صوبے اپنی فوج اور پولیس نہیں بنا سکتے اور آئین و قانون کے مطابق پولیس سروس آف پاکستان کے رولز میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے۔
طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ مجوزہ قانون کے تحت انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت 3 افسران کا پینل صوبائی حکومت کو بھجوائے گی، جس میں سے صوبائی حکومت کو ایک افسر کے انتخاب یا پورا پینل مسترد کرنے کا اختیار ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈی ایس پی سے آئی جی تک تعیناتی کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس رکھنے سے کیا پولیس اپنے افسران کے بجائے سیاسی نمائندوں کی طرف دیکھے گی؟