خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں ترامیم پر وفاق اور صوبائی حکومت میں محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی

اہم پیش رفت، وفاق نے ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا،، وزیراعلیٰ نے پولیس کے سیاسی استعمال پر کڑی تنقید کی۔

September 24, 2026 · امت خاص
خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں ترامیم اور سیاسی کشیدگی سے متعلق ایک منظر

خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں ترامیم اور سیاسی کشیدگی سے متعلق ایک منظر

 

خیبرپختونخوا میں نئے پولیس ایکٹ کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی اور قانونی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے ترمیم شدہ پولیس ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ کے پی حکومت نے صرف آئی جی کے اختیارات واپس نہیں لیے بلکہ پوری کمانڈ تباہ کر دی ہے اور مجوزہ پولیس ایکٹ میں سیاسی عمل دخل واضح نظر آ رہا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر وفاق نے پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا تو صوبائی حکومت بھرپور اقدامات کرے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ سے پولیس کا دھیان ہٹا کر کسی سیاسی جماعت کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور پولیس کو غلط احکامات کے خلاف انکار کرنا سیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی اور دیگر امور کے حوالے سے کابینہ نے پولیس ایکٹ منظور کیا ہے تاکہ امن و امان کے بہتر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے مطابق نئے پولیس ایکٹ کے تحت گریڈ 18 سے اوپر کے افسران کی تقرری و تبادلے کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا جبکہ گریڈ 18 تک کے تقرر و تبادلے آئی جی کے پاس رہیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی بھی وزیراعلیٰ کے پاس ہوگی جبکہ آئی جی اپنے اختیارات آزادانہ طریقے سے استعمال کر سکیں گے۔ اس کے برعکس وفاقی وزارت داخلہ نے اس قانون سازی کو آئین اور پی ایس پی رولز کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس معاملے کو عدالتِ عظمیٰ میں اٹھایا جائے گا۔