لانگ مارچ ملتوی،اسلام آباد میں سکیورٹی اور دیگر اخراجات ایک ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان

احتجاج کی تاریخ آگے بڑھنے سے کنٹینرز، اضافی نفری، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے لگے

September 26, 2026 · امت خاص

لانگ مارچ ملتوی، اسلام آباد میں سکیورٹی اخراجات ایک ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان

تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کا احتجاجی مظاہرہ اور ممکنہ لانگ مارچ معطل کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت اور اسلام آباد پولیس کے سکیورٹی اخراجات دگنے ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے قومی خزانے کو ایک ارب روپے سے زائد کے معاشی دھچکے کا اندیشہ ہے۔

وفاقی دارالحکومت پولیس نے ابتدا میں 27 ستمبر کے احتجاج سے نمٹنے اور ایک ہفتے کے سکیورٹی انتظامات کے لیے 820 ملین یعنی 82 کروڑ روپے کی گرانٹ طلب کی تھی، تاہم احتجاج کی تاریخ آگے بڑھنے کے باعث اب یہ تمام اخراجات دوگنے ہو کر ایک ارب روپے سے تجاوز کر جائیں گے۔

اسلام آباد کو سیل کرنے کے لیے منگوائے گئے 1550 کنٹینرز کا روزانہ کرایہ 46.5 ملین یعنی ساڑھے 4 کروڑ روپے بنتا ہے، جو ایک ہفتے میں 325.5 ملین یعنی 32 کروڑ 55 لاکھ اور دو ہفتوں میں 651 ملین یعنی 65 کروڑ 10 لاکھ روپے تک پہنچ جائے گا۔ آل پاکستان گڈز الائنس کے چیئرمین نثار حسین جعفری کے مطابق پولیس نے فی کنٹینر 30 ہزار روپے یومیہ کرایہ طے کیا، تاہم احتجاج ملتوی ہونے کے بعد پولیس نے تاحال یہ فیصلہ نہیں کیا کہ کنٹینرز کو چھوڑا جائے یا تحویل میں رکھا جائے۔

معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے سندھ پولیس سے 2 ہزار اور پنجاب پولیس سے 16 ہزار اہلکاروں کی اضافی نفری طلب کی تھی۔ سندھ پولیس کی نفری اسلام آباد پہنچ چکی ہے، جنہیں پولیس لائنز، فیصل مسجد اور جی 13 کمیونٹی سینٹر میں ٹھہرایا گیا ہے۔ ان اہلکاروں کے کھانے پر فی کس 600 روپے یومیہ کے حساب سے روزانہ 1.2 ملین یعنی 12 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

افسران کے لیے 13 ہوٹلوں میں 175 کمرے بک کروائے گئے ہیں، جن کا یومیہ کرایہ 7 لاکھ 54 ہزار روپے سے زائد ہے۔ سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے لیے 70 کوسٹرز، 30 ڈبل کیبن اور درجنوں بسیں بھی ہائر کی گئی ہیں، جن کا کرایہ لاکھوں روپے ہے۔

آل پاکستان گڈز الائنس کے چیئرمین نثار حسین نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد پولیس نے ڈرائیورز اور عملے سمیت کم از کم 2700 گڈز گاڑیاں زبردستی تحویل میں لے رکھی ہیں۔ تقریباً 400 گاڑیاں اور ان کا عملہ تاحال لاپتہ ہے، جبکہ باقی عملے کو مختلف تھانوں میں حبسِ بے جا میں رکھ کر ان کے موبائل فون، گاڑیوں کے کاغذات اور چابیاں بھی ضبط کرلی گئی ہیں۔

ان کے مطابق قبضے میں لی گئی 2700 گاڑیوں میں سے 450 سے زائد گاڑیوں میں ادویات، غذائی اجناس اور کیمیکلز جیسی حساس اور ضروری اشیاء موجود ہیں، جس سے ملک میں اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔