چلاس میں جی بی سکاؤٹس کی گاڑی پر فائرنگ سے3اہلکار زخمی

نامعلوم شرپسندوں کا حملہ، وزیراعلیٰ کا نوٹس، فوری کارروائی کی ہدایت

September 28, 2026 · قومی
چلاس فائرنگ واقعہ، زخمی اہلکاروں کی منتقلی اور سکیورٹی آپریشن کے مناظر۔

چلاس فائرنگ واقعہ، زخمی اہلکاروں کی منتقلی اور سکیورٹی آپریشن کے مناظر۔

گلگت بلتستان کے علاقے چلاس میں شیر نالہ کے قریب بشیداس زیرو پوائنٹ پر نامعلوم شرپسندوں نے گلگت بلتستان سکاؤٹس کی پٹرولنگ گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 3 اہلکار زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق پہاڑی کی جانب سے کی جانے والی اس فائرنگ سے زخمی ہونے والے اہلکاروں میں 2 ایس ایس یو پولیس اہلکار اور ایک جی بی سکاؤٹس کا جوان شامل ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد تمام زخمیوں کو طبی امداد کے لیے بشیداس ایف ڈبلیو او ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

ادھر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے بشیداس زیرو پوائنٹ کے قریب جی بی سکاؤٹس کی پٹرولنگ گاڑی پر ہونے والے اس حملے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اور تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لیے بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے۔

موصولہ ہدایات کے مطابق وزیراعلیٰ نے آئی جی گلگت بلتستان کو حکم دیا کہ واقعے کی فوری، جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے تمام دستیاب وسائل، جدید تفتیشی ذرائع اور انٹیلی جنس معلومات کا بھرپور استعمال کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجرمان کی گرفتاری میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ بھی ہدایت کی کہ اس واقعے کے محرکات، منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کا بھی سراغ لگایا جائے اور جو بھی عناصر اس حملے میں براہِ راست یا بالواسطہ ملوث پائے جائیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

علاوہ ازیں، وزیراعلیٰ نے متعلقہ انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو حکم دیا ہے کہ بشیداس، شیر نالہ اور ملحقہ علاقوں میں سرچ اور کومبنگ آپریشنز کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، نگرانی اور سکیورٹی کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر دراصل ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، تاہم ایسے عناصر کو قانون کی گرفت سے کسی صورت بچنے نہیں دیا جائے گا اور حملہ آوروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔